LIVE
Loading Breaking News...

حوثی جنگجوؤں کے خلاف عسکری مشکلات کی اصل وجوہات

News Image
سکیورٹی نامہ نگار فرینک گارڈنر کے مطابق ایرانی حمایت یافتہ حوثی جنگجوؤں کی درست نشانے پر حملے کرنے کی صلاحیت اور گوریلا جنگی حکمت عملی سعودی افواج کی فتح میں بڑی رکاوٹ ہیں۔ ان پیچیدہ جنگی حربوں کی وجہ سے خطے میں عسکری برتری حاصل کرنا ایک انتہائی مشکل چیلنج بن چکا ہے۔
بین الاقوامی امور اور سکیورٹی کے ماہرین کے مطابق یمن کے حوثی باغیوں کے خلاف موثر کارروائی کرنا اور عسکری برتری حاصل کرنا ایک انتہائی پیچیدہ معاملہ بن چکا ہے۔ برطانوی نشریاتی ادارے کے سکیورٹی نامہ نگار فرینک گارڈنر نے اپنے ایک تجزیے میں اس بات پر روشنی ڈالی ہے کہ کیوں سعودی اتحاد اور دیگر علاقائی طاقتوں کو حوثیوں کے خلاف جنگ میں خاطر خواہ کامیابی نہیں مل سکی۔ ان کے مطابق حوثیوں کی جنگی صلاحیتوں میں حالیہ برسوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے جو روایتی افواج کے لیے ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے۔ تجزیے میں بتایا گیا ہے کہ ایران کی مبینہ عسکری اور تکنیکی حمایت کی بدولت حوثی جنگجو اب انتہائی نپی تلی اور درست نشانے پر مار کرنے والی صلاحیتوں کے مالک بن چکے ہیں۔ وہ جدید ڈرونز اور میزائل ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے اہم تنصیبات کو نشانہ بناتے ہیں، جس سے نہ صرف ان کی دفاعی صلاحیت میں اضافہ ہوتا ہے بلکہ حملہ آور افواج کو بھی شدید نقصان اٹھانا پڑتا ہے۔ اس قسم کے جدید اور سستے ہتھیار روایتی عسکری نظام کے لیے ایک نئی آزمائش بن کر ابھرے ہیں۔ اس کے علاوہ حوثیوں کی روایتی گوریلا جنگی حکمت عملی بھی انہیں کھلی جنگ کے نقصانات سے بچاتی ہے۔ یمن کا ناہموار پہاڑی خطہ اور مقامی آبادی میں ان کی مضبوط پناہ گاہیں بیرونی افواج کے لیے زمینی پیش قدمی کو انتہائی مشکل بنا دیتی ہیں۔ جب تک باقاعدہ فوجیں ان کے خفیہ ٹھکانوں اور رسد کے راستوں کو مکمل طور پر بند نہیں سکتیں، اس وقت تک فضائی برتری اکیلے کوئی فیصلہ کن معرکہ سر نہیں کر سکتی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس تنازع کا کوئی فوری فوجی حل دکھائی نہیں دیتا اور دونوں اطراف کو سیاسی حل کی طرف بڑھنے کی ضرورت ہے۔ حوثیوں کے پاس موجود جدید ہتھیار اور ان کے تجربہ کار جنگجو اس بات کی غمازی کرتے ہیں کہ خطے میں پائیدار امن کے حصول کے لیے روایتی طریقوں سے ہٹ کر نئی حکمت عملی اپنانا ہوگی، بصورت دیگر یہ تعطل طویل عرصے تک جاری رہ سکتا ہے۔