Sports
ک کھیلوں میں کٹس کا ضیاع اور اس کا حل
پروفیشنل کھیلوں میں کٹس اور جرسیوں کے ضیاع کا مسئلہ شدت اختیار کرتا جا رہا ہے جہاں ہزاروں ملبوسات بغیر پہنے ضائع ہو جاتے ہیں۔ کھیلوں کی تنظیمیں اور کلب اب اس ماحول دشمن رجحان کو کم کرنے کے لیے موثر اقدامات پر غور کر رہے ہیں۔
پروفیشنل کھیلوں کی دنیا میں کھلاڑیوں اور شائقین کی توجہ ہمیشہ میچ کے نتائج، ریکارڈز اور شاندار کارکردگی پر رہتی ہے، لیکن اس کے پس منظر میں ایک ایسا مسئلہ بھی موجود ہے جس پر عام طور پر کم ہی بات کی جاتی ہے۔ یہ مسئلہ ہے کھیلوں کی کٹس، جرسیوں اور ملبوسات کا بے دریغ ضیاع۔ دنیا بھر کے بڑے کھیلوں کے مقابلوں میں ہر سیزن ہزاروں کی تعداد میں ایسی کٹس تیار کی جاتی ہیں جو کبھی پہنی ہی نہیں جاتیں۔ ٹیموں کی تبدیلی، سیزن کے اختتام، اسپانسرز کی تبدیلی اور کھلاڑیوں کے تبادلوں کی وجہ سے ان نئے ملبوسات کی بڑی مقدار گوداموں میں دھول پھانکتی ہے یا پھر تلف کر دی جاتی ہے۔
اس مسئلے کا ایک اور اہم پہلو میچ کے دوران کھلاڑیوں کا رویہ ہے۔ روایت کے مطابق، کئی کھلاڑی ہر میچ کے بعد اپنی جرسییں شائقین کو تحفے میں دے دیتے ہیں یا مخالف ٹیم کے کھلاڑیوں کے ساتھ تبدیل کرتے ہیں۔ اگرچہ یہ عمل کھیل کی روایت اور شائقین کے ساتھ جڑنے کا ایک بہترین ذریعہ ہے، لیکن اس کا مطلب یہ بھی ہے کہ ہر میچ کے لیے ٹیموں کو درجنوں اضافی سیٹ تیار کرنے پڑتے ہیں جو کہ پیداواری وسائل پر اضافی بوجھ ڈالتے ہیں۔ اس کے علاوہ، بڑے پیمانے پر کھیلوں کے ملبوسات کی تیاری کے دوران کاربن کے اخراج اور فضلے میں بھی اضافہ ہوتا ہے جو کہ ماحولیاتی تبدیلیوں کے اس دور میں ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے۔
خوش قسمتی سے، اب کھیلوں کی دنیا میں اس سنجیدہ مسئلے کے خلاف بیداری پیدا ہو رہی ہے اور کئی بڑی تنظیمیں اس پر قابو پانے کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہیں۔ کچھ کلبوں نے ری سائیکلنگ کے جدید پروگرام شروع کیے ہیں جن کے تحت پرانی اور استعمال نہ ہونے والی کٹس کو نئے دھاگوں میں تبدیل کر کے دوبارہ استعمال کے قابل بنایا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ، مینوفیکچررز اب ایسے پائیدار مواد کا استعمال بڑھا رہے ہیں جو ماحول کے لیے کم نقصان دہ ہوں۔ کھیلوں کے ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر ٹیمیں اپنی ضرورت کا تخمینہ زیادہ درست طریقے سے لگائیں اور اسراف کو کم کریں، تو نہ صرف وسائل کی بچت ہوگی بلکہ کھیلوں کے شعبے کو ماحول دوست بنانے میں بھی مدد ملے گی۔