Politics
محمود خان اچکزئی کا خیبر پختونخوا میں گورنر راج پر وفاق پر شدید تنقید
سیاسی رہنما محمود خان اچکزئی نے خیبر پختونخوا میں گورنر راج کے نفاذ پر وفاقی حکومت کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ انہوں نے اس اقدام کا موازنہ بلوچستان کے حالات سے کرتے ہوئے اسے جمہوری روایات کے منافی قرار دیا ہے۔
اسلام آباد: پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے سربراہ محمود خان اچکزئی نے خیبر پختونخوا میں گورنر راج کے نفاذ اور ایمرجنسی کی صورتحال پر سخت ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے وفاقی حکومت کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ صوبے کے معاملات میں اس طرح کی مداخلت ملک میں جمہوریت کو مزید کمزور کرنے کے مترادف ہے اور اس سے سیاسی کشیدگی میں مزید اضافہ ہوگا۔
اپنے ایک بیان میں محمود خان اچکزئی نے خیبر پختونخوا کے موجودہ حالات کا موازنہ ماضی کے بلوچستان کے ساتھ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ جس طرح ماضی میں بلوچستان کے حقوق اور اختیارات پر قدغن لگائی گئی تھی، وہی طریقہ کار اب خیبر پختونخوا میں دہرایا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومتوں کو ان کے بنیادی آئینی حقوق سے محروم کرنا وفاقی اکائیوں کے درمیان خلیج کو مزید گہرا کرے گا جو کہ ملکی سلامتی اور سالمیت کے لیے کسی بھی طرح مفید نہیں ہے۔
دوسری جانب صوبے میں سیاسی صورتحال اس وقت مزید پیچیدہ ہو گئی ہے جب خیبر پختونخوا اسمبلی کے اسپیکر سہیل آفریدی کو حفاظتی تحویل میں لے لیا گیا ہے جبکہ صوبائی حکومت کے وزراء اور کابینہ ارکان کے بارے میں بھی تصدیق کی گئی ہے کہ وہ حفاظتی تحویل میں ہیں۔ پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے ان اقدامات نے صوبائی اور وفاقی حکومتوں کے درمیان محاذ آرائی کو عروج پر پہنچا دیا ہے، جس پر سیاسی حلقوں میں گہری تشویش پائی جاتی ہے۔
ادھر صوبائی گورنر اور دیگر حکومتی شخصیات کی جانب سے یہ مؤقف اپنایا گیا ہے کہ تمام فیصلے آئین اور قانون کے دائرے میں رہ کر کیے جا رہے ہیں تاکہ صوبے میں امن و امان کی صورتحال کو بہتر بنایا جا سکے۔ تاہم، اپوزیشن جماعتوں اور قوم پرست رہنماؤں نے اس تمام صورتحال کو آئین پر شب خون مارنے کے مترادف قرار دیا ہے اور مطالبہ کیا ہے کہ سیاسی اسیران کو فوری طور پر رہا کیا جائے اور صوبائی اسمبلی کے اکثریت یافتہ نمائندوں کو ان کے آئینی فرائض انجام دینے کی اجازت دی جائے۔