World
برطانیہ: ریفارم پارٹی کا پناہ کا نظام پانچ سال معطل کرنے کا اعلان
برطانیہ کی ریفارم پارٹی نے ملک میں پناہ گزینوں کے نظام کو پانچ سال کے لیے معطل کرنے کا بڑا اعلان کیا ہے۔ اس منصوبہ بندی کے تحت نوے ہزار پناہ گزینوں کو فوری طور پر ملک بدر کرنے کا ارادہ بھی ظاہر کیا گیا ہے۔
برطانیہ کی سیاست میں ایک نیا طوفان اس وقت اٹھ کھڑا ہوا جب ریفارم پارٹی کے رہنماؤں نے ملک کے موجودہ سیاسی پناہ کے نظام کو پانچ سال کے لیے مکمل طور پر معطل کرنے کا متنازعہ اعلان کر دیا۔ پارٹی قیادت کا مؤقف ہے کہ برطانیہ کو اس وقت تارکین وطن کے بے قابو سیلاب کا سامنا ہے اور ملک کے اندرونی وسائل اس بوجھ کو مزید اٹھانے کی سکت نہیں رکھتے۔ اس پالیسی کے تحت نہ صرف نئے آنے والوں کے دروازے بند کیے جائیں گے بلکہ طویل مدتی تدارک کے لیے سخت ترین اقدامات کی بھی تجویز پیش کی گئی ہے۔
اس منصوبے کے ایک اور انتہائی سخت حصے کے تحت نوے ہزار ایسے پناہ گزینوں کو فوری طور پر ملک بدر کرنے کا ہدف رکھا گیا ہے جن کی درخواستوں پر تاحال حتمی فیصلے نہیں ہو سکے یا جنہیں قانونی طور پر غیر مستند قرار دیا گیا ہے۔ حیرت انگیز طور پر اس ملک بدری کی فہرست میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں، جس پر انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیموں اور حزب اختلاف کی جماعتوں کی طرف سے شدید نوعیت کے تحفظات کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ اس طرح کے اقدامات انسانی ہمدردی کے بنیادی اصولوں اور بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔
ریفارم پارٹی کے سربراہ نائجل فراج اور دیگر رہنما اس پالیسی کو ملکی سالمیت، معیشت اور عوامی سلامتی کے لیے ناگزیر قرار دے رہے ہیں۔ ان کا ماننا ہے کہ اگر برطانوی سرحدوں کو محفوظ بنانا ہے اور اندرونی خدمات پر پڑنے والے دباو کو کم کرنا ہے تو اس قسم کے انتہائی اور سخت فیصلے کرنا وقت کی اہم ضرورت بن چکے ہیں۔ دوسری جانب، اس اعلان کے بعد برطانوی معاشرے میں ایک بار پھر امیگریشن کے مسئلے پر بحث چھڑ گئی ہے اور عام انتخابات یا سیاسی مباحثوں میں یہ موضوع سر فہرست آ گیا ہے۔