LIVE
Loading Breaking News...

محمد اورنگزیب اور آرمیدا سالسیہ کی ملاقات، تعاون پر تبادلہ خیال

News Image
وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے دورہ بنکاک کے دوران آرمیدا سالسیہ سے ملاقات کی جس میں مختلف شعبوں میں دو طرفہ تعاون بڑھانے کے مواقع کا جائزہ لیا گیا۔ وزیر خزانہ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ اور عالمی بینک کے سالانہ اجلاسوں میں شرکت کے لیے تھائی لینڈ کے دارالحکومت میں موجود ہیں۔
وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے اپنے دورہ بنکاک کے دوران اہم ملاقاتیں شروع کر دی ہیں جہاں وہ انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ (آئی ایم ایف) اور ورلڈ بینک کے سالانہ اجلاسوں میں شرکت کے لیے موجود ہیں۔ اس سلسلے میں ان کی ملاقات آرمیدا سالسیہ سے ہوئی جس میں دونوں رہنماؤں کے درمیان باہمی تعاون کے فروغ اور دو طرفہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ اس ملاقات کا مقصد پاکستان اور متعلقہ مالیاتی اداروں کے درمیان شراکت داری کو مزید مستحکم کرنا ہے۔ دورہ بنکاک کے دوران وزیر خزانہ کا مصروف ترین شیڈول ہے اور وہ عالمی بینک اور آئی ایم ایف کے اجلاسوں کے سائیڈ لائنز پر ساٹھ سے زائد اہم مصروفیات اور ملاقاتیں سرانجام دیں گے۔ ان ملاقاتوں میں ملک کی معاشی صورتحال، اصلاحات کے ایجنڈے اور مالیاتی تعاون کے نئے راستوں پر بات چیت کی جا رہی ہے۔ محمد اورنگزیب ان اہم فورمز پر پاکستان کا مؤقف بھرپور طریقے سے پیش کر رہے ہیں تاکہ ملکی معیشت کی بہتری کے لیے زیادہ سے زیادہ بین الاقوامی وسائل اور معاونت حاصل کی جا سکے。 علاوہ ازیں، وزیر خزانہ نے اپنے حالیہ دوروں اور اجلاسوں کے دوران وی ٹین (V20) موسمیاتی فنانس کے ایجنڈے کے لیے پاکستان کی غیر متزلزل حمایت کا بھی اعادہ کیا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ بدلتے ہوئے موسمیاتی حالات کے چالنجز سے نمٹنے کے لیے موثر مالیاتی حکمت عملی اور مالیاتی ذمہ داری کا مظاہرہ ناگزیر ہے۔ پاکستان جیسے ممالک جو موسمیاتی تبدیلیوں سے شدید متاثر ہیں، ان کے لیے عالمی سطح پر مؤثر اقدامات اور بروقت فنڈز کی فراہمی انتہائی اہمیت کی حامل ہے۔ وزیر خزانہ نے اس عزم کا اظہار کیا کہ موجودہ حکومت ملک میں پائیدار ترقی اور معاشی استحکام کے لیے اصلاحات کا عمل تیزی سے جاری رکھے گی۔ ان بین الاقوامی اجلاسوں میں شرکت کا بنیادی مقصد دنیا کو یہ یقین دلانا ہے کہ پاکستان اپنی معاشی پالیسیوں پر سنجیدگی سے عمل پیرا ہے اور ملک میں بیرونی سرمایہ کاری کے لیے سازگار ماحول فراہم کیا جا رہا ہے۔ توقع کی جا رہی ہے کہ ان ملاقاتوں کے نتیجے میں پاکستان کے لیے معاشی تعاون کے نئے در وا ہوں گے۔