World
ترکیہ مکہ معاہدہ پارلیمنٹ میں پیش کرے گا، صدر اردوان
ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان نے کہا ہے کہ مکہ معاہدے کو جلد ہی توثیق کے لیے پارلیمنٹ میں پیش کیا جائے گا۔ اس اہم سفارتی قدم کا مقصد خطے میں تعاون اور تعلقات کو مزید فروغ دینا ہے۔
ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان نے اپنے حالیہ بیان میں اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ ملک کے دارالحکومت انقرہ میں متعلقہ حکام مکہ معاہدے کا تفصیلی جائزہ لے رہے ہیں اور اسے جلد ہی قانون ساز اسمبلی یعنی ترک پارلیمنٹ میں منظوری کے لیے پیش کیا جائے گا۔ اس اقدام کو بین الاقوامی سفارت کاری اور خطے کے ممالک کے ساتھ تعلقات کے تناظر میں نہایت اہمیت کا حامل قرار دیا جا رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق اس معاہدے کے ذریعے دو طرفہ تعاون، سلامتی اور خطے میں امن و استحکام کے لیے نئی راہیں کھلنے کی توقع ہے۔ ترک حکومت کی جانب سے اس معاہدے کو پارلیمنٹ میں لانے کا مقصد اسے قانونی اور دستوری شکل دینا ہے تاکہ اس پر مکمل عمل درآمد کو یقینی بنایا جا سکے۔ عالمی امور کے ماہرین اس پیش رفت کو ترکیہ کی خلیجی خطے اور دیگر مسلم ممالک کے ساتھ قریبی شراکت داری کو مزید مستحکم کرنے کی کوشش کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔
پارلیمنٹ میں اس معاہدے کی منظوری کے حوالے سے سیاسی حلقوں میں بھی چہ مگوئیاں جاری ہیں اور توقع کی جا رہی ہے کہ حکمران اتحاد کے پاس مطلوبہ اکثریت موجود ہونے کی وجہ سے یہ بل با آسانی منظور ہو جائے گا۔ صدر اردوان کے اس اعلان کے بعد ترکیہ کی پارلیمانی کمیٹیاں اس معاملے پر غور کرنے کے لیے تیاریاں کر رہی ہیں اور آنے والے دنوں میں اس پر باقاعدہ بحث کا آغاز متوقع ہے۔
اس پیش رفت سے ترکیہ کے خارجہ امور بالخصوص خلیجی ممالک کے ساتھ تعلقات میں ایک نیا باب کھلنے کی امید کی جا رہی ہے۔ عوام اور تجارتی حلقے بھی اس معاہدے کے مثبت اثرات کے منتظر ہیں تاکہ دونوں خطوں کے درمیان اقتصادی اور سیاسی سطح پر تعلقات کو مزید بلندیوں تک لے جایا جا سکے۔