World
ناوی پلے کی ٹرمپ پر تنقید، آئی سی سی کے خلاف بیانات کو ظالمانہ قرار دے دیا
نوبেল امن انعام جیتنے والی ناوی پلے نے سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے انٹرنیشنل کریمنل کورٹ پر کیے جانے والے حملوں کو منفی اور ظالمانہ قرار دیا ہے۔ انہوں نے عدالتی آزادی اور عالمی انصاف کے اصولوں پر زور دیتے ہوئے ان حملوں کی شدید مذمت کی ہے۔
نوبেল امن انعام یافتہ ممتاز قانون دان ناوی پلے نے سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے بین الاقوامی فوجداری عدالت (آئی سی سی) پر کیے جانے والے حملوں کو انتہائی منفی اور ظالمانہ قرار دیا ہے۔ حال ہی میں نوبেল امن انعام حاصل کرنے کے بعد اپنے ایک بیان میں ناوی پلے کا کہنا تھا کہ عالمی سطح پر انصاف کی فراہمی کے اداروں کو کمزور کرنے کی کوششیں خطرناک رجحان ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ آئی سی سی جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم کی تحقیقات میں ایک اہم ترین ادارہ ہے اور اس پر سیاسی دباؤ ڈالنا یا اس کی ساکھ کو نقصان پہنچانا بین الاقوامی قانون کے منافی ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کے حامیوں کی طرف سے ماضی میں اس عدالت کے خلاف سخت بیانات دیے گئے تھے اور ججوں پر پابندیاں عائد کرنے کی دھمکیاں بھی دی گئی تھیں جن پر عالمی سطح پر شدید ردعمل سامنے آیا تھا۔ ناوی پلے نے اپنے انٹرویوز اور بیانات میں اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ انسانی حقوق کے تحفظ اور قانون کی حکمرانی کے لیے ایسے اداروں کا خودمختار رہنا ناگزیر ہے۔ مبصرین کے مطابق نوبেল انعام جیتنے کے بعد ناوی پلے کی طرف سے یہ تنقید عالمی سیاست اور قانونی حلقوں میں ایک نیا بحث کا دروازہ کھول رہی ہے، جہاں عالمی عدالتوں کے اختیارات اور خودمختاری کا دفاع کیا جا رہا ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیموں نے بھی ناوی پلے کے اس مؤقف کا خیرمقدم کیا ہے اور امید ظاہر کی ہے کہ اس سے عالمی سطح پر قانون کی بالادستی کو مزید تقویت ملے گی اور انصاف کے متلاشی افراد کو امید کی کرن نظر آئے گی۔