LIVE
Loading Breaking News...

سعودی ہوائی اڈوں پر حوثی حملے اور تیل کی قیمتوں میں اضافہ

News Image
سعودی عرب کے ہوائی اڈوں پر حالیہ حوثی حملوں کے بعد عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں اچانک بڑا اضافہ دیکھا گیا ہے۔ اس واقعے نے توانائی کی سپلائی کے حوالے سے خدشات کو مزید بڑھا دیا ہے۔
عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اس وقت شدید تیزی دیکھنے میں آئی جب سعودی عرب کے اہم ہوائی اڈوں کو حوثی باغیوں کی جانب سے حملوں کا نشانہ بنایا گیا۔ ان حملوں کے نتیجے میں خطے میں توانائی کی سپلائی اور عالمی معیشت کے حوالے سے خدشات گہرے ہو گئے ہیں، جس کے اثرات براہ راست بین الاقوامی منڈیوں پر پڑ رہے ہیں۔ خبر رساں اداروں کے مطابق برینٹ کروڈ آئل کی قیمتیں ایک بار پھر بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہیں اور یہ ایک سو چھ ڈالر فی بیرل سے اوپر چلی گئی ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ سعودی تنصیبات پر اس قسم کے حملے عالمی سطح پر تیل کی رس رسد کو شدید متاثر کر سکتے ہیں۔ دوسری جانب، روس اور یوکرین کے درمیان توانائی کے جنگ بندی معاہدے کی مبینہ خلافورزی اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرین کی جانب سے ڈیزل کے سودے اور روس سے متعلق بیانات نے بھی مارکیٹ میں غیر یقینی صورتحال کو ہوا دی ہے۔ ان تمام محرکات نے مل کر سرمایہ کاروں میں تشویش کی لہر دوڑا دی ہے اور تیل کے سودے کرنے والے محتاط رویہ اختیار کرنے پر مجبور ہو گئے ہیں۔ تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ اگر مشرق وسطیٰ میں سکیورٹی کی یہ کشیدہ صورتحال برقرار رہی تو آنے والے دنوں میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مزید اتار چڑھاؤ آ سکتا ہے۔ عالمی منڈی کے نگراں اداروں نے صورتحال کا باریک بینی سے جائزہ لینا شروع کر دیا ہے تاکہ سپلائی چین کو درپیش خطرات سے نمٹا جا سکے۔ حکومتیں اور توانائی کے ادارے اس بحران سے بچنے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر لائحہ عمل تیار کرنے پر غور کر رہے ہیں تاکہ صارفین کو مہنگائی کے مزید طوفان سے بچایا جا سکے کیونکہ تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتیں دنیا بھر میں مہنگائی کا باعث بن سکتی ہیں۔