LIVE
Loading Breaking News...

ٹک ٹاک سی ای او کا اے آئی سکیورٹی اور شفافیت پر اہم بیان

News Image
ٹک ٹاک کے چیف ایگزیکٹو شو زی چیو نے خبردار کیا ہے کہ صارفین اے آئی ایجنٹس کو اندھا دھند اپنا رہے ہیں۔ انہوں نے مصنوعی ذہانت کے شعبے میں بڑی سائنسی کامیابیوں کی پیشگوئی بھی کی ہے۔
ٹک ٹاک کے چیف ایگزیکٹو شو زی چیو (Chew Shou Zi) نے ایک بیان میں کہا ہے کہ دنیا بھر میں لوگ اور ادارے یہ مکمل طور پر سمجھے بغیر کہ مصنوعی ذہانت (AI) کیسے کام کرتی ہے، بڑی تیزی سے اے آئی ایجنٹس کی طرف منتقل ہو رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اس ٹیکنالوجی کے استعمال میں جتنا اضافہ ہو رہا ہے، اتنا ہی اس کے اندرونی میکانزم کو سمجھنا ضروری ہے تاکہ مستقبل میں کسی بھی بڑے بحران سے بچا جا سکے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ڈیجیٹل دنیا میں سکیورٹی کے خطرات سے نمٹنے کے لیے مصنوعی ذہانت کی سکیورٹی کو بہتر بنانا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔ حالیہ دنوں میں ٹیکنالوجی کے بڑے ناموں بشمول براڈ کام اور انٹیل کے رہنماؤں نے بھی اس بات پر اتفاق کیا ہے کہ مصنوعی ذہانت میں ترقی کا یہ سفر جاری رہے گا، تاہم اصل چیلنج یہ جاننا ہے کہ اس سے اصل معاشی اور سماجی قدر کیسے حاصل کی جائے۔ دوسری طرف، ٹک ٹاک نے مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ مواد (AI-generated content) کی شناخت کو آسان بنانے اور اس حوالے سے شفافیت کو فروغ دینے کے لیے اپنی کوششیں مزید تیز کر دی ہیں تاکہ صارفین کو غلط معلومات سے محفوظ رکھا جا سکے۔ ٹک ٹاک کے سی ای او کو پختہ یقین ہے کہ آنے والے محض تین سالوں کے اندر مصنوعی ذہانت کی مدد سے سائنس کے شعبے میں ایسی بڑی پیشرفت اور کامیابیاں دیکھنے کو ملیں گی جو انسانی تاریخ کا رخ بدل سکتی ہیں۔ انہوں نے عالمی رہنماؤں اور اداروں پر زور دیا کہ وہ اس ٹیکنالوجی کو اپناتے وقت اس کے ممکنہ خطرات اور حفاظتی تقاضوں کو نظر انداز نہ کریں، کیونکہ اے آئی کے بے قابو استعمال سے سنگین سکیورٹی مسائل جنم لے سکتے ہیں۔ ماہرین کا بھی کہنا ہے کہ اگرچہ مصنوعی ذہانت کی ترقی ناگزیر ہے، لیکن اس کے نفاذ کے لیے مناسب ضابطے اور بہتر تفہیم ناگزیر ہو چکی ہے۔