LIVE
Loading Breaking News...

عوامی ملکیت والا ریلوے نظام اور وقت کی پابندی کا چیلنج

News Image
عوامی ملکیت کے حامل ریلوے سسٹمز عوامی سطح پر تو بے حد مقبول ہیں لیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ مسافروں کی توقعات پر پورا اترنا اور ٹرینوں کو ہمیشہ وقت پر چلانا ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے۔ پبلک سیکٹر میں چلنے والی ٹرینوں کے حوالے سے مسافروں کی رائے ملی جلی ہے اور کارکردگی کو مزید بہتر بنانے کی مسلسل کوششیں جاری ہیں۔
حالیہ برسوں کے دوران پبلک سیکٹر یا عوامی ملکیت میں چلنے والے ریلوے سسٹمز نے عوام الناس میں ایک بار پھر بڑی مقبولیت حاصل کی ہے۔ مسافر عام طور پر سرکاری سطح پر چلنے والی ٹرینوں کو زیادہ قابل اعتماد اور سستا ذریعہ نقل و حمل سمجھتے ہیں، جس کی وجہ سے پبلک ریلوے کی مانگ میں مسلسل اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ تاہم، اس بڑھتی ہوئی مقبولیت کے ساتھ ہی ریلوے کے انتظامی امور پر دباؤ بھی بڑھتا جا رہا ہے اور یہ سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ آیا یہ نظام ٹرینوں کو بروقت منزل مقصود پر پہنچانے کے قابل ہے یا نہیں۔ ماہرینِ نقل و حمل اور ریلوے کے امور پر نظر رکھنے والے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ مسافروں کی بڑھتی ہوئی توقعات پر پورا اترنا اور ہر بار ٹرینوں کو سخت شیڈول کے مطابق وقت پر چلانا ایک انتہائی مشکل ہدف ہے۔ بنیادی ڈھانچے کی خامیوں، پرانے سگنل سسٹمز، اور مسافروں کے بے پناہ رش کی وجہ سے اکثر ٹرینیں تاخیر کا شکار ہو جاتی ہیں، جس سے مسافروں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اگرچہ حکومتیں اور متعلقہ ادارے ریلوے کی بہتری کے لیے نئے منصوبے متعارف کرا رہے ہیں، لیکن زمینی حقائق اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ نظام کو مکمل طور پر وقت کا پابند بنانے کے لیے ابھی مزید طویل المدتی اصلاحات کی ضرورت ہے۔ دوسری جانب، مسافروں کا کہنا ہے کہ کرایوں میں اضافے کے باوجود اگر انہیں مقررہ وقت پر سفر کی سہولت میسر نہ آئے تو اس سے پبلک ریلوے پر عوام کا اعتماد متزلزل ہو سکتا ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ ریلوے انتظامیہ اپنی کارکردگی کو بہتر بنائے، تکنیکی خرابیوں پر قابو پائے اور مسافروں کو ایک ایسا معیاری اور بروقت سفر فراہم کرے جس کی توقع وہ ایک عوامی ادارے سے کرتے ہیں۔ آنے والے دنوں میں یہ دیکھنا انتہائی اہم ہوگا کہ آیا عوامی ملکیت والے ریلوے سسٹمز ان چیلنجز سے کامیابی سے نبرد آزما ہو پاتے ہیں یا نہیں۔