LIVE
Loading Breaking News...

مصنوعی ذہانت کے بارے میں امریکی عوام کا منفی رویہ، گیلپ کا سروے

News Image
گیلپ کے ایک نئے سروے سے انکشاف ہوا ہے کہ جتنا زیادہ امریکی شہری مصنوعی ذہانت کے بارے میں جانتے ہیں، اتنا ہی وہ اس سے ناخوش ہوتے جا رہے ہیں۔ سروے کے مطابق اب زیادہ امریکی یہ مانتے ہیں کہ اے آئی فوائد کے مقابلے میں نقصانات زیادہ پہنچا رہی ہے۔
واشنگٹن (نیکسورا نیوز اردو) گیلپ کے ایک نئے اور جامع سروے سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ امریکی عوام میں مصنوعی ذہانت یعنی آرٹیفیشل انٹیلی جنس (AI) کے حوالے سے شکوک و شبہات میں نمایاں اضافہ ہو رہا ہے۔ گذشتہ دو سالوں کے دوران ٹیکنالوجی کے اس شعبے میں بہتری کے رجحانات دیکھنے میں آئے تھے، تاہم اب صورتحال بدلتی دکھائی دے رہی ہے۔ سروے کے مطابق جیسے جیسے امریکی شہریوں کو اے آئی کی صلاحیتوں اور اس کے استعمال کے بارے میں زیادہ معلومات حاصل ہو رہی ہیں، ویسے ویسے وہ اس کے بارے میں منفی خیالات کے حامل ہوتے جا رہے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق اب ایک بڑی تعداد کا یہ ماننا ہے کہ مصنوعی ذہانت معاشرے کے لیے فوائد کے مقابلے میں نقصانات زیادہ پیدا کر رہی ہے۔ اس کے علاوہ شہریوں کی اکثریت اس بات پر بھی تشویش میں مبتلا ہے کہ اے آئی مستقبل میں بڑے پیمانے پر امریکی ملازمتوں کے خاتمے کا سبب بنے گی۔ روزگار کے مواقع کم ہونے کا یہ خدشہ عام آدمی کے ساتھ ساتھ مختلف پیشہ ورانہ شعبوں میں بھی تیزی سے پھیل رہا ہے، جس کی وجہ سے ٹیکنالوجی کمپنیوں کے لیے عوام کا اعتماد بحال کرنا ایک بڑا چیلنج بن گیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ سروے اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ عوام میں ٹیکنالوجی کے پھیلاؤ اور اس کے ممکنہ منفی اثرات کے بارے میں شعور تو بیدار ہو رہا ہے، لیکن اس کے ساتھ خوف اور بے یقینی کی فضا بھی گہری ہو رہی ہے۔ حکومتی اداروں اور ٹیک انڈسٹری کے رہنماؤں کے لیے یہ لمحہ فکریہ ہے کہ وہ اے آئی کے ضابطہ کار اور اس کے انسانی زندگی پر پڑنے والے اثرات کے بارے میں عوام کے خدشات کو دور کریں۔ آنے والے دنوں میں مصنوعی ذہانت کے ضابطے اور حفاظت کے حوالے سے بحث مزید تیز ہونے کا امکان ہے۔