World
امریکی آرچ بشپ کا فوجی فائرنگ اسکواڈ اور سزائے موت پر بڑا بیان
امریکہ کے آرچ بشپ تیمتھی بروگلیو نے فورٹ ہڈ کے حملہ آور کی پھانسی کی لائیو نشریات کو کلیسائی تعلیمات کے منافی قرار دیا ہے۔ انہوں نے فوج میں موجود کیتھولک اہلکاروں پر زور دیا ہے کہ وہ فائرنگ اسکواڈ میں شرکت سے گریز کریں۔
واشنگٹن: امریکہ کے آرچ بشپ تیمتھی بروگلیو نے ایک اہم بیان میں کہا ہے کہ امریکی فوج میں خدمات انجام دینے والے کیتھولک اہلکاروں کو فائرنگ اسکواڈ میں حصہ نہیں لینا چاہیے۔ ان کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی حکام کی جانب سے فورٹ ہڈ کے حملہ آور کی سزائے موت کو لائیو سٹریم کرنے کے منصوبے پر غور کیا جا رہا ہے، جو کہ ملک بھر میں ایک بحث کا موضوع بن چکا ہے۔ آرچ بشپ کا کہنا ہے کہ اس طرح کے اقدامات اور سزائے موت پر عمل درآمد میں براہ راست شرکت کلیسائی تعلیمات اور اخلاقی اصولوں کے خلاف ہے۔ کیتھولک چرچ روایتی طور پر سزائے موت کی مخالفت کرتا چلا آ رہا ہے اور اس ضمن میں بشپ کا یہ مؤقف چرچ کی دیرینہ پالیسی کا تسلسل ہے۔ آرچ بشپ تیمتھی بروگلیو جو کہ امریکی ملٹری آرڈینریٹ کے سربراہ بھی ہیں، انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ فوجی اہلکاروں کو اپنے مذہبی عقائد اور ضمیر کے مطابق فیصلے کرنے کا حق حاصل ہونا چاہیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ سزائے موت جیسے ظالمانہ اقدامات کی عوامی سطح پر تشہیر یا لائیو نشریات انسانی وقار کے منافی ہیں اور معاشرے میں تشدد کے رجحان کو ہوا دیتی ہیں۔ انسانی حقوق کی تنظیموں نے بھی اس معاملے پر آرچ بشپ کے مؤقف کا خیرمقدم کیا ہے جبکہ امریکی فوج کی جانب سے اس پر تاحال کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔ اس تنازع نے ایک بار پھر امریکہ میں سزائے موت کے اخلاقی پہلوؤں اور فوجی خدمات میں مذہبی آزادی کے حدود و قیود پر نئی بحث چھوٹی ہے، جس کے آنے والے دنوں میں مزید اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔