LIVE
Loading Breaking News...

کارنیল یونیورسٹی گینگ रेप اور فرٹرنٹی کلچر پر بحث

News Image
کارنیল یونیورسٹی میں پیش آنے والے مبینہ گینگ रेप کے واقعے کے بعد طلبہ تنظیموں کے کلچر پر شدید خدشات ظاہر کیے جا رہے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ بہت سی فرٹرنٹی برادری کا احساس تو دلاتی ہیں لیکن وفاداری کے نام پر ہیزنگ اور دباؤ کا سہارا لیتی ہیں۔
امریکہ کی معروف کارنیল یونیورسٹی میں پیش آنے والے ایک مبینہ گینگ रेप کے واقعے نے ملک بھر کی یونیورسٹیوں میں پائے جانے والے فرٹرنٹی اور سورورٹی کلچر کے تاریک پہلوؤں کو ایک بار پھر بے نقاب کر دیا ہے۔ اس واقعے کے سامنے آنے کے بعد تعلیمی اداروں اور سول سوسائٹی کی طرف سے شدید تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے اور طلبہ تنظیموں کے اندرونی نظام پر کڑی تنقید کی جا رہی ہے۔ ماہرینِ تعلیم اور سماجی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ یونیورسٹی کی سطح پر قائم ہونے والی یہ روایتی برادریاں اگرچہ نئے طلبہ کو اکیلاپن محسوس نہ ہونے دینے اور ایک کمیونٹی کا احساس دلانے کا دعویٰ کرتی ہیں، لیکن ان میں سے کئی تنظیمیں اپنے اراکین میں جعلی وفاداری پیدا کرنے کے لیے خطرناک ہتھکنڈے استعمال کرتی ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ بہت سی فرٹرنٹی میں نئے آنے والے طلبہ کو شدید جسمانی و ذہنی دباؤ کا نشانہ بنایا جاتا ہے جسے ہیزنگ کہا جاتا ہے۔ اس عمل کے ذریعے طلبہ کو غیر اخلاقی اور خطرناک سرگرمیوں میں حصہ لینے پر مجبور کیا جاتا ہے تاکہ وہ تنظیم کے دباؤ میں رہیں۔ ناقدین کے مطابق اس طرح کا ماحول ایسے رویوں کو جنم دیتا ہے جہاں طاقت کا غلط استعمال اور خواتین کے خلاف جرائم پنپتے ہیں۔ اس واقعے کے بعد اب یونیورسٹی انتظامیہ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں پر دباؤ بڑھ گیا ہے کہ وہ فرٹرنٹی کلچر کے نام پر چلنے والی ان سرگرمیوں کے خلاف سخت ترین اقدامات کریں۔ والدین اور طلبہ کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیمیں بھی مطالبہ کر رہی ہیں کہ جامعات میں ایسے سخت ضابطے نافذ کیے جائیں جو طلبہ کی حفاظت کو یقینی بنائیں اور کسی بھی قسم کی غنڈہ گردی یا جبری ہتھکنڈوں کو جڑ سے ختم کریں۔ اس معاملے نے امریکہ بھر کی یونیورسٹیوں میں ایک نئی بحث کو جنم دے دیا ہے کہ کیا تعلیمی اداروں میں ان برادریوں کو مزید چھوٹ دی جانی چاہیے یا پھر ان کے پورے نظام کی جامع اصلاح کی ضرورت ہے۔