LIVE
Loading Breaking News...

مارک کارنی کی کینیڈا میں اتحاد کی اپیل اور البرٹا ریفرنڈم

News Image
کینیڈا کے وزیراعظم مارک کارنی نے تھسڈے کے موقع پر ملک بھر میں قومی اتحاد اور یکجہتی پر زور دیا ہے۔ یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب البرٹا صوبے میں کینیڈا سے علیحدگی کے حوالے سے ریفرنڈم صرف ایک ہفتے کی دوری پر ہے۔
کینیڈا کے وزیراعظم مارک کارنی نے اپنے یوم تشکر (تھسڈے) کے خصوصی پیغام میں ملک کے تمام شہریوں سے قومی اتحاد، یکجہتی اور باہمی تعاون کو برقرار رکھنے کی پرزور اپیل کی ہے۔ ان کا یہ اہم ترین بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب کینیڈا کا تیل سے مالا مال صوبہ البرٹا فیڈریشن سے علیحدگی کے تنازع اور ریفرنڈم کے قریب تر ہوتا جا رہا ہے۔ وزیراعظم کا یہ پیغام دراصل سیاسی کشیدگی کے اس ماحول میں مرکز اور صوبائی سطح پر روابط کو مضبوط کرنے کی ایک سنجیدہ کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ البرٹا میں ہونے والا یہ ریفرنڈم آئندہ ہفتے متوقع ہے جس کے نتائج ملکی سیاسی منظر نامے پر گہرے اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔ سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق، صوبے کے اندر کچھ حلقے وفاقی حکومت کی پالیسیوں سے شدید ناخوش ہیں، جس کی وجہ سے علیحدگی کے اس خیال کو مقامی سطح پر کچھ پذیرائی حاصل ہو رہی ہے۔ تاہم، وفاقی دارالحکومت میں بیٹھی قیادت کا ماننا ہے کہ کینیڈا کی اصل طاقت اس کے تنوع اور باہم جڑے ہوئے صوبوں میں پنہاں ہے۔ وزیراعظم مارک کارنی نے اپنے خطاب میں اس بات پر زور دیا کہ چیلنجز خواہ کتنے ہی بڑے کیوں نہ ہوں، ان کا مقابلہ صرف اور صرف مل بیٹھ کر اور ایک متحد قوم کی حیثیت سے ہی کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے عوام کو یاد دلایا کہ کینیڈا کی تاریخ ہمیشہ سے اشتراک عمل اور مشکل حالات میں ایک دوسرے کا ساتھ دینے کی رہی ہے۔ وفاقی حکومت کی جانب سے صوبائی خدشات کو دور کرنے کے لیے مختلف سطح پر مذاکرات کے دروازے بھی کھلے رکھے گئے ہیں تاکہ کسی بھی انتہائی قدم سے گریز کیا جا سکے۔ دوسری جانب، البرٹا کے عوام اور مقامی سیاسی قیادت کے درمیان اس ریفرنڈم کو لے کر آراء منقسم ہیں۔ ایک طرف جہاں کچھ لوگ معاشی خودمختاری کو ناگزیر قرار دے رہے ہیں، وہیں دوسری طرف معتدل حلقے ملک کے ٹوٹنے کے خطرات کے پیش نظر وفاق کے ساتھ رہنے کو ہی بہتر قرار دے رہے ہیں۔ آنے والے چند دن کینیڈین سیاست کے لیے انتہائی فیصلہ کن ثابت ہوں گے، اور پوری دنیا کی نظریں البرٹا کے اس ریفرنڈم پر مرکوز ہیں۔