World
سوڈان میں جنگ اور خشک سالی کے باعث قحط کا انتباہ جاری
سوڈان میں پچھلے تین سال سے جاری تباہ کن خانہ جنگی اور ایل نینو کی وجہ سے پیدا ہونے والی خشک سالی نے ملک کے نصف حصے کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔ اس سنگین صورتحال کی وجہ سے لاکھوں افراد کو خوراک کی شدید قلت اور ممکنہ قحط کا سامنا ہے۔
سوڈان میں جاری تباہ کن خانہ جنگی اور شدید خشک سالی نے ملک کو تاریخ کے بدترین انسانی بحران کے دہانے پر لا کھڑا کیا ہے۔ بین الاقوامی مانیٹرنگ رپورٹس کے مطابق تین سال سے جاری اس مسلح تصادم نے پہلے ہی معیشت اور بنیادی ڈھانچے کو تباہ کر دیا ہے، جبکہ اب قدرتی آفات نے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ ملک کے مختلف حصوں میں خوراک کی سپلائی لائنیں منقطع ہو چکی ہیں اور عام شہریوں کی زندگی اجیرن بن گئی ہے۔
رپورٹس کے مطابق 'ایل نینو' کے اثرات کے نتیجے میں پیدا ہونے والی شدید خشک سالی نے سوڈان کے تقریباً نصف رقبے کو متاثر کیا ہے۔ زرعی زمینیں بنجر ہو چکی ہیں اور فصلوں کی پیداوار نہ ہونے کے برابر رہ گئی ہے۔ دیہی علاقوں میں صورتحال انتہائی تشویشناک ہے جہاں کسانوں اور مال مویشی پالنے والوں کے پاس ذریعہ معاش کا کوئی اور ذریعہ نہیں بچا۔ پانی کی قلت اور چارہ نہ ہونے کی وجہ سے ہزاروں مویشی ہلاک ہو چکے ہیں جس سے غذائی تحفظ کا بحران مزید گہرا ہو گیا ہے۔
امداد فراہم کرنے والے اداروں کا کہنا ہے کہ متاثرہ علاقوں تک رسائی انتہائی مشکل ہو چکی ہے کیونکہ سکیورٹی کے مسائل اور حکومتی و باغی گروہوں کے درمیان جھڑپیں امدادی کارروائیوں میں سب سے بڑی رکاوٹ ہیں۔ عالمی برادری اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے سوڈان میں قحط کے بڑھتے ہوئے خطرے کے پیش نظر فوری جنگ بندی اور ہنگامی بنیادوں پر امداد کی فراہمی کا مطالبہ کیا ہے۔ اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے تو آنے والے ہفتوں میں لاکھوں معصوم جانیں بھوک اور بیماریوں کی نذر ہو سکتی ہیں۔