LIVE
Loading Breaking News...

ایران کے تیل کے ثالثی تاجروں پر اربوں ڈالر کے واجبات کی وجہ

News Image
ایرانی حکام نے انکشاف کیا ہے کہ تیل کی فروخت میں ثالثی کا کردار ادا کرنے والے تاجروں پر حکومت کے اربوں ڈالر کے واجبات باقی ہیں۔ بین الاقوامی پابندیوں کے اس دور میں یہ مالیاتی بحران اور رقوم کی واپسی کے طریقہ کار پر کئی سوالات کو جنم دیتا ہے۔
ایران کے توانائی کے شعبے میں اس وقت ایک اہم اور پیچیدہ بحث نے جنم لیا ہے کہ تیل کی فروخت میں ثالثی یا ثالث کا کردار ادا کرنے والے نجی اور نیم سرکاری اداروں پر حکومت کے اربوں ڈالر کے واجبات کیوں موجود ہیں۔ بین الاقوامی پابندیوں کے اس پیچیدہ دور میں ایران اپنی تیل کی برآمدات کو جاری رکھنے کے لیے مختلف درمیانی تاجروں اور نیٹ ورکس پر انحصار کرتا ہے جو ایرانی خام تیل کو عالمی منڈیوں تک پہنچانے میں مدد دیتے ہیں۔ تاہم، ان رقوم کی بروقت وصولی اور شفافیت ایک طویل عرصے سے حکام کے لیے دردِ سر بنی ہوئی ہے۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق، یہ قرضے اور واجبات اس وقت جمع ہوئے جب تیل خریداروں نے پابندیوں سے بچنے والے راستوں اور نیٹ ورکس کے ذریعے ادائیگیاں کیں، جو حتمی طور پر ایرانی خزانے تک پوری طرح یا بروقت نہیں پہنچ سکیں۔ دنیا بھر میں پابندیوں کے سخت نفاذ کی وجہ سے مالیاتی لین دین کے لیے روایتی بینکنگ چینلز بند ہو چکے ہیں، جس کی وجہ سے ایران غیر رسمی مالیاتی ذرائع اور ثالثوں پر انحصار کرنے پر مجبور ہوا۔ ان درمیانی تاجروں نے تیل کی ترسیل تو یقینی بنائی لیکن رقوم کی واپسی اور منتقلی کا عمل انتہائی غیر شفاف اور پیچیدہ ثابت ہوا۔ ایرانی پارلیمنٹ اور متعلقہ سرکاری اداروں کے اندر بھی اس بات پر شدید تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے کہ ان اربوں ڈالر کی وصولی کے لیے اب تک موثر اقدامات کیوں نہیں کیے گئے۔ معاشی ماہرین کا ماننا ہے کہ اس طرح کی رقوم کی عدم دستیابی ملک کی پہلے ہی دباؤ کا شکار معیشت پر مزید بوجھ ڈال رہی ہے۔ حکومت کے لیے یہ ایک بڑا امتحان ہے کہ وہ ان ثالثوں سے کڑی بازپرس کرے تاکہ قومی خزانے کو پہنچنے والے اس نقصان کا ازالہ کیا جا سکے اور آئندہ کے لیے تیل کی تجارت کو زیادہ شفاف بنایا جا سکے۔ مستقبل میں ایران کی تیل کی پالیسی اور اس کی برآمدات کے تسلسل کے لیے یہ انتہائی ضروری ہے کہ وہ ان مالیاتی خلاؤں کو پُر کرے۔ اگر ایران اپنے توانائی کے نظام کو محفوظ بنانا چاہتا ہے تو اسے اپنے تجارتی شراکت داروں اور درمیانی تاجروں کے ساتھ حساب کتاب کے اس پورے نظام کو از سر نو ترتیب دینا ہوگا۔ بصورت دیگر، ملک کے مالیاتی وسائل کا اس طرح غیر واضح طریقوں سے پھنسے رہنا معاشی بحران کو مزید گہرا کر سکتا ہے۔