LIVE
Loading Breaking News...

برطانوی پارلیمنٹ میں پہلی صومالی نژاد خاتون سگل عبدی ولی کی تاریخی کامیابی

News Image
لیبر پارٹی کی نو منتخب رکن پارلیمنٹ سگل عبدی ولی نے برطانوی تاریخ میں ایک نیا باب رقم کر دیا ہے۔ وہ برطانیہ کی پارلیمنٹ تک پہنچنے والی صومالی نژاد پہلی خاتون مہاجر ہیں۔
برطانیہ کی سیاسی تاریخ میں ایک انتہائی اہم اور تاریخی سنگ میل عبور کر لیا گیا ہے، جہاں لیبر پارٹی سے تعلق رکھنے والی سگل عبدی ولی نے بطور ممبر پارلیمنٹ (ایم پی) حلف اٹھا لیا ہے۔ وہ برطانوی پارلیمنٹ کی تاریخ میں پہلی ایسی صومالی نژاد مہاجر خاتون بن گئی ہیں جنہیں عوامی نمائندگی کے اس اعلیٰ ترین منصب کے لیے منتخب کیا گیا ہے۔ ان کی یہ کامیابی نہ صرف صومالی کمیونٹی بلکہ برطانیہ بھر کے مہاجرین کے لیے فخر کی علامت ہے۔ سگل عبدی ولی کا یہ تاریخی سفر اس بات کا ثبوت ہے کہ برطانوی معاشرہ تیزی سے تنوع اور شمولیت کی طرف گامزن ہے۔ مہاجر پس منظر سے تعلق رکھنے کے باوجود انہوں نے سیاسی میدان میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا اور لیبر پارٹی کے پلیٹ فارم سے شاندار کامیابی حاصل کی۔ ان کے اس انتخاب کو برطانوی سیاست میں اقلیتوں اور مہاجرین کی بڑھتی ہوئی سیاسی شمولیت اور نمائندگی کی ایک بڑی مثال کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ حلف برداری کی اس تقریب کے بعد سیاسی حلقوں اور صومالی کمیونٹی میں جشن کا سا ماحول ہے۔ مختلف رہنماؤں نے سگل عبدی ولی کو مبارکباد دیتے ہوئے امید ظاہر کی ہے کہ وہ پارلیمنٹ میں مہاجرین، پناہ گزینوں اور عامتہ الناس کے مسائل کو بھرپور طریقے سے اجاگر کریں گی۔ ان کی کامیابی سے نہ صرف صومالی نژاد نوجوانوں بالخصوص خواتین کو تحریک ملے گی بلکہ وہ برطانیہ میں تارکین وطن کے حقوق کے لیے ایک توثیقی آواز بھی بنیں گی۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ سگل عبدی ولی کی پارلیمنٹ میں موجودگی برطانوی جمہوریت کے کثیر الثقافتی تشخص کو مزید مستحکم کرے گی۔ ان کا یہ تاریخی سفر اس عزم کی عکاسی کرتا ہے کہ محنت، لگن اور عزم کے ساتھ کوئی بھی شخص رکاوٹوں کو عبور کر کے معاشرے کے بلند ترین ایوانوں تک پہنچ سکتا ہے۔