LIVE
Loading Breaking News...

اسرائیل کی النقب میں انہدامی کارروائیاں، 400 فلسطینی بے گھر

News Image
اسرائیلی حکام نے النقب کے صحرا میں واقع گاؤں الدحیہ میں کارروائی کرتے ہوئے اسی عمارتیں مسمار کر دی ہیں۔ اس بڑی کارروائی کے نتیجے میں تقریبا چار سو فلسطینی بے گھر ہو گئے ہیں اور علاقے میں شدید تشویش پائی جاتی ہے۔
اسرائیلی حکام کی جانب سے مقبوضہ علاقوں اور اندرونی حصوں میں فلسطینیوں کے خلاف کارروائیوں کا سلسلہ جاری ہے، جس کی تازہ کڑی النقب کے صحرا میں سامنے آئی ہے۔ اطلاعات کے مطابق اسرائیلی حکام نے النقب کے علاقے میں واقع گاؤں الدحیہ میں بڑے پیمانے پر انہدامی کارروائیاں انجام دی ہیں جن کے دوران رہائشی اور دیگر عمارتوں کو مسمار کر دیا گیا ہے۔ اس کارروائی کے نتیجے میں مقامی آبادی کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے اور انسانی حقوق کی صورتحال پر سوالیہ نشان اٹھ کھڑے ہوئے ہیں۔ موصولہ رپورٹ کے مطابق اسرائیلی انتظامیہ نے الدحیہ گاؤں میں کارروائی کرتے ہوئے مجموعی طور پر اسی ڈھانچے مسمار کیے۔ ان مسمار کی جانے والی عمارتوں میں رہائشی مکانات بھی شامل تھے جن میں غریب فلسطینی خاندان آباد تھے۔ اس ناگہانی اور بڑی انہدامی کارروائی کے نتیجے میں تقریبا چار سو فلسطینی بے گھر ہو چکے ہیں اور انہیں کھلے آسمان تلے یا عارضی پناہ گاہوں میں رہنے پر مجبور ہونا پڑ رہا ہے، کیونکہ ان کے پاس سر چھپانے کے لیے کوئی اور محفوظ مقام نہیں بچا۔ اسرائیل کی جانب سے النقب کے صحرا اور دیگر علاقوں میں فلسطینیوں کے خلاف اس طرح کی کارروائیوں کو مسلسل تنقید کا نشانہ بنایا جاتا رہا ہے۔ بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیموں اور مقامی رہنماؤں نے ان انہدامی کارروائیوں کی شدید مذمت کی ہے اور اسے جبری بے دخلی قرار دیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس طرح کے اقدامات سے خطے میں پہلے سے موجود کشیدگی میں مزید اضافہ ہو گا اور متاثرہ خاندانوں کی زندگیوں میں مشکلات کا ایک نیا باب کھل جائے گا۔ متاثرہ فلسطینی خاندانوں اور مقامی کمیونٹی کے اراکین نے عالمی برادری اور انسانی حقوق کے اداروں سے فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ بے گھر ہونے والے افراد بالخصوص خواتین اور بچوں کو اس سرد موسم اور کٹھن حالات میں فوری طبی، خوراک اور رہائشی امداد کی اشد ضرورت ہے۔ دوسری جانب اسرائیلی حکام کی جانب سے اس انہدامی مہم کے حوالے سے روایتی موقف اپنایا گیا ہے، تاہم انسانی حقوق کی تنظیمیں اس معاملے پر مسلسل آواز بلند کر رہی ہیں۔