LIVE
Loading Breaking News...

جنوبی افریقہ کے ڈپٹی پولیس چیف کا استعفیٰ، جنسی جرائم کا الزام

News Image
جنوبی افریقہ کے ڈپٹی پولیس چیف شادراک سیبیا نے جنسی جرائم اور بدعنوانی کے الزامات کے بعد اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ وہ گزشتہ ماہ گرفتاری کے بعد سے جیل میں ہیں اور تمام الزامات کی تردید کرتے ہیں۔
جنوبی افریقہ کے ڈپٹی پولیس چیف شادراک سیبیا نے اپنے عہدے سے باضابطہ طور پر استعفیٰ دے دیا ہے۔ موصولہ اطلاعات کے مطابق یہ قدم اس وقت اٹھایا گیا جب ان پر بدعنوانی، زیادتی اور بچوں کے استحصال جیسے سنگین الزامات عائد کیے گئے۔ شادراک سیبیا کو گزشتہ ماہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے گرفتار کیا تھا اور اس وقت وہ عدالتی حکم پر جیل میں قید ہیں۔ ان تمام الزامات کے سامنے آنے کے بعد ملک بھر میں شدید ردعمل سامنے آیا تھا، جس کے بعد ان کے استعفیٰ کی بازگشت تیز ہو گئی تھی۔ دوسری جانب، شادراک سیبیا نے اپنے اوپر لگائے گئے تمام الزامات کو یکسر مسترد کر دیا ہے۔ ان کے وکلا اور ترجمان کا کہنا ہے کہ ان کے موکل پر عائد کردہ الزامات بے بنیاد اور ان کی ساکھ کو نقصان پہنچانے کی ایک سازش ہیں۔ سیبیا کا مؤقف ہے کہ وہ قانونی چارہ جوئی کے دوران اپنے دفاع میں تمام حقائق سامنے لائیں گے اور عدالت سے بے گناہ ثابت ہوں گے۔ تاہم، ان کی گرفتاری اور جیل جانے کے بعد پولیس محکمے کی کارکردگی اور شفافیت پر بھی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ جنوبی افریقہ کے محکمہ پولیس اور حکومت کی جانب سے اس حساس معاملے پر گہری نظر رکھی جا رہی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ قانون سب کے لیے برابر ہے اور اس واقعے کی مکمل اور غیر جانبدارانہ تفتیش کی جائے گی تاکہ حقائق عوام کے سامنے آ سکیں۔ ڈپٹی پولیس چیف جیسے اہم عہدے پر فائز شخصیت کی گرفتاری اور استعفیٰ نے ملک کے سکیورٹی اور قانون نافذ کرنے والے اداروں میں ہلچل مچا دی ہے، اور اس سے محکمے کی اندرونی صورتحال پر بھی گہرے اثرات مرتب ہوئے ہیں۔