Politics
خیبر پختونخوا میں وفاقی قبضہ اور پی ٹی آئی کی حکمت عملی
پاکستان تحریک انصاف نے خیبر پختونخوا میں کسی بھی قسم کے وفاقی قبضے یا گورنر راج کی شدید مخالفت کا اعلان کیا ہے۔ سیاسی بحران کے اس تناظر میں انسانی حقوق کی تنظیموں نے بھی بنیادی حقوق کے تحفظ پر زور دیا ہے۔
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی عمران خان کی جماعت نے صوبہ خیبر پختونخوا میں کسی بھی وفاقی قبضے یا ممکنہ گورنر راج کے خلاف بھرپور سیاسی اور قانونی مزاحمت کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ حالیہ سیاسی کشمکش اور صوبائی حکومت کے معاملات پر اسلام آباد اور پشاور کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے بعد یہ پیش رفت سامنے آئی ہے۔ سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق صوبے میں کسی بھی قسم کی ہنگامی صورتحال یا گورنر راج کے نفاذ کے ملک بھر پر دور رس اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
دوسری جانب بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے بھی اس صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ ملک میں ہنگامی حالات یا ایمرجنسی کے نفاذ کو سیاسی مخالفین اور انسانی حقوق کے کارکنوں کے خلاف کریک ڈاؤن کے لیے استعمال نہیں کیا جانا چاہیے۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ جمہوری اقدار اور بنیادی انسانی حقوق کا تحفظ ہر حال میں یقینی بنایا جانا چاہیے تاکہ سیاسی بحران مزید گہرا نہ ہو۔
گورنر خیبر پختونخوا کے حالیہ بیانات کے بعد صوبائی اور وفاقی حکومتوں کے درمیان محاذ آرائی میں مزید تیزی آئی ہے۔ گورنر کا موقف تھا کہ صوبے سے متعلق اہم پالیسیاں اسلام آباد میں طے ہوں گی نہ کہ کسی اور مقام پر، جس پر پی ٹی آئی کی قیادت نے شدید ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ پی ٹی آئی کا مؤقف ہے کہ صوبائی خودمختاری پر کسی قسم کا حملہ قبول نہیں کیا جائے گا اور عوام کے منتخب نمائندوں کے اختیارات کا دفاع کیا جائے گا۔
موجودہ حالات میں سیاسی ماہرین کا یہ ماننا ہے کہ اگر وفاقی حکومت نے خیبر پختونخوا میں کوئی انتہائی اقدام اٹھایا تو اس سے ملک میں پہلے سے موجود سیاسی اور معاشی عدم استحکام میں مزید اضافہ ہوگا۔ پی ٹی آئی نے اپنی صفوں میں اتحاد برقرار رکھنے اور اس ممکنہ وفاقی اقدام کے خلاف ہر فورم پر آواز اٹھانے کا عزم ظاہر کیا ہے، جس سے آنے والے دنوں میں سیاسی درجہ حرارت مزید بڑھنے کا خدشہ ہے۔