LIVE
Loading Breaking News...

پاکستان کا سعودی عرب اور لیبیا سے توانائی تعاون بڑھانے کا فیصلہ

News Image
مشرق وسطیٰ میں رسد کے مسائل کے پیش نظر پاکستان نے اپنے تیل کے ذرائع کو متنوع بنانے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس حکمت عملی کے تحت سعودی عرب کے علاوہ لیبیا سے بھی خام تیل درآمد کرنے پر غور کیا جا رہا ہے۔
عالمی سطح پر توانائی کی بدلتی ہوئی صورتحال اور مشرق وسطیٰ میں رسد کے ممکنہ بحران کے پیش نظر پاکستان نے اپنے تیل کے درآمدی ذرائع کو متنوع بنانے کے لیے سنجیدہ کوششیں شروع کر دی ہیں۔ اس ضمن میں وفاقی حکومت کی جانب سے مختلف برادر اور دوست ممالک کے ساتھ توانائی کے شعبے میں باہمی تعاون کو مزید وسعت دینے پر زور دیا جا رہا ہے تاکہ ملکی معیشت کو کسی بھی ناگہانی توانائی کے بحران سے محفوظ رکھا جا سکے۔ حکومتی سطح پر جاری ان کوششوں کا مقصد تیل کی درآمد کے لیے روایتی منڈیوں پر انحصار کم کرنا اور متبادل ذرائع کو تلاش کرنا ہے۔ حالیہ رپورٹس کے مطابق پاکستان نے افریقہ کے دوسرے بڑے خام تیل پیدا کرنے والے ملک لیبیا سے بھی رابطہ کیا ہے اور وہاں سے خام تیل کی درآمد کے امکانات کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ مشرق وسطیٰ میں جاری تنازعات اور سپلائی چین میں رکاوٹوں کے باعث حکومت نے یہ قدم اٹھایا ہے تاکہ ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کی بلا تعطل فراہمی کو یقینی بنایا جا سکے۔ ماہرین اقتصادیات کا ماننا ہے کہ اگر لیبیا اور سعودی عرب کے ساتھ توانائی کے یہ معاہدے طے پا جاتے ہیں تو اس سے پاکستان کو نہ صرف تیل کی قیمتوں میں استحکام حاصل کرنے میں مدد ملے گی بلکہ ملکی درآمدی بل کو بھی بہتر طریقے سے مینیج کیا جا سکے گا۔ دوسری جانب، ملکی معیشت کے دیگر اہم امور پر بھی بین الاقوامی سطح پر تبادلہ خیال جاری ہے۔ وفاقی وزیر برائے خزانہ اور ریونیو سینیٹر محمد اورنگزیب نے اقوام متحدہ کی انڈر سیکرٹری جنرل اور ایسکیپ (ESCAP) کی ایگزیکٹو سیکرٹری آرمیدہ سالشیاہ علیشاہبانو سے ملاقات کی ہے۔ اس ملاقات کے دوران پاکستان کی موجودہ معاشی ترجیحات، موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے نمٹنے کے لیے اٹھائے جانے والے اقدامات اور پائیدار ترقی کے امور پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔ وزیر خزانہ نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان مشکل معاشی حالات سے نکل رہا ہے اور اس عمل میں عالمی اداروں اور دوست ممالک کا تعاون انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ حکومت پاکستان کی یہ جامع پالیسی اس عزم کی عکاسی کرتی ہے کہ ملک کو طویل مدتی معاشی استحکام کی طرف گامزن کیا جائے۔ توانائی کے شعبے میں اصلاحات، برآمدات میں اضافے اور درآمدی ذرائع کے تنوع جیسے اقدامات سے ملک میں مہنگائی کے دباؤ کو کم کرنے میں بھی مدد ملے گی۔ آنے والے دنوں میں اس حوالے سے مزید عملی اقدامات متوقع ہیں، جن سے پاکستان کی توانائی کی ضروریات کو محفوظ بنایا جا سکے گا اور معاشی ترقی کا سفر بلا تعطل جاری رہ سکے گا۔