LIVE
Loading Breaking News...

صدر زرداری کا علاقائی تعاون اور ڈیزاسٹر رسک ریڈکشن پر زور

News Image
صدر مملکت آصف علی زرداری نے موسمیاتی تبدیلیوں اور قدرتی آفات سے نمٹنے کے لیے علاقائی تعاون کو مزید مضبوط کرنے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ انہوں نے اس بات کا اعادہ کیا ہے کہ پاکستان میں آفات سے نمٹنے کے لیے موثر حکمت عملی اور معیارات اپنانا ناگزیر ہو چکا ہے۔
اسلام آباد: صدر مملکت آصف علی زرداری نے ملک میں بڑھتے ہوئے موسمیاتی چیلنجز اور قدرتی آفات کے پیش نظر علاقائی تعاون کو مضبوط بنانے پر زور دیا ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ پاکستان کو موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات سے بچانے کے لیے تمام متعلقہ اداروں کو مل کر لائحہ عمل تیار کرنا ہوگا۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ ایڈاپٹیشن کے لیے محض عجلت کی نہیں بلکہ واضح اور پائیدار معیارات کی ضرورت ہے۔ حالیہ برسوں میں پاکستان کو گلیشیئرز کے پگھلنے کے خطرات (GLOF) اور شدید سیلابوں کا سامنا کرنا پڑا ہے، جس سے معیشت اور انفراسٹرکچر کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ اس ضمن میں وزیر اعظم شہباز شریف نے بھی پہلے ہی پائیدار اور آفات سے محفوظ کمیونٹیز کی تعمیر کے لیے حکومت کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔ وفاقی اور صوبائی سطح پر اس بات پر اتفاق کیا گیا ہے کہ چین آف کسٹڈی اور وسائل کے شفاف استعمال کو یقینی بنایا جائے تاکہ فنڈز بروقت متاثرہ علاقوں تک پہنچ سکیں۔ بین الاقوامی سطح پر بھی پاکستان موسمیاتی انصاف کے لیے آواز اٹھاتا رہا ہے تاکہ ترقی پذیر ممالک کو درپیش خطرات کا مقابلہ کرنے کے لیے مالی اور تکنیکی مدد فراہم کی جا سکے۔ صدر زرداری نے اپنے بیان میں اس بات پر روشنی ڈالی کہ اکیلے پاکستان کے لیے موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے نمٹنا انتہائی مشکل ہے، لہذا خطے کے دیگر ممالک کے ساتھ مل کر مشترکہ حکمت عملی بنانا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔ ماہرینِ ماحولیات نے بھی اس بات کی تائید کی ہے کہ اگر فوری طور پر ڈیزاسٹر رسک ریڈکشن کے معیارات پر عمل درآمد نہ کیا گیا تو آنے والے برسوں میں انسانی نقصانات میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ حکومت اس کڑی میں تمام شراکت داروں کے ساتھ مشاورت کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہے تاکہ مستقبل کے خطرات کو کم سے کم کیا جا سکے۔