World
امریکہ اور حوثی تنازع: واشنگٹن کی پالیسی اور مشرق وسطیٰ کا مستقبل
امریکہ اور حوثیوں کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی نے مشرق وسطیٰ میں ایک نئے بحران کو جنم دے دیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ واشنگٹن کو خطے میں زمینی حقائق کا ادراک کرتے ہوئے محتاط حکمت عملی اپنانی چاہیے۔
واشنگٹن کی جانب سے حوثیوں کے خلاف اختیار کی جانے والی حالیہ پالیسیوں اور ان کے ممکنہ اثرات پر بین الاقوامی سطح پر بحث چھڑ گئی ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ امریکی حکام نے حوثی تحریک کی عسکری صلاحیتوں اور خطے میں ان کے مقاصد کو سمجھنے میں کئی بنیادی غلطیاں کی ہیں۔ حالیہ دنوں میں سعودی عرب کے ساتھ رابطوں اور میزائل حملوں کے روکنے کے بعد صورتحال مزید پیچیدہ ہو چکی ہے۔ سابق امریکی اقدامات اور موجودہ خطرات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ عجلت میں کیے گئے فیصلے خطے کو ایک بڑی جنگ میں دھکیل سکتے ہیں۔دوسری جانب ماہرینِ دفاع کا کہنا ہے کہ یمن کے تنازع میں براہ راست امریکی فوجی مداخلت سے ایران کے ساتھ ایک وسیع جنگ چھڑنے کے خطرات کئی گنا بڑھ جاتے ہیں۔ اس صورتحال سے نہ صرف بحیرہ احمر کی تجارتی گزرگاہیں خطرے میں پڑ سکتی ہیں بلکہ خطے کے دیگر ممالک بالخصوص سعودی عرب کی سلامتی بھی براہ راست متاثر ہو سکتی ہے۔ حوثی رہنماؤں نے بھی سخت انتباہ جاری کیا ہے کہ اگر امریکہ نے یمن کی جنگ میں مزید مداخلت کی تو اسے انتہائی تیز اور تکلیف دہ جواب کا سامنا کرنا پڑے گا۔یہ صورتحال اس امر کی متقاضی ہے کہ واشنگٹن اپنی حکمت عملی پر نظر ثانی کرے۔ فوجی طاقت کے اندھا دھند استعمال کی بجائے سفارتی ذرائع کو بروئے کار لانا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔ امریکہ اور اس کے اتحادیوں کو چاہیے کہ وہ یمن کے بحران کے سیاسی حل کے لیے کام کریں، کیونکہ محض عسکری کارروائیوں سے نہ تو حوثیوں کے عزائم کو دبایا جا سکتا ہے اور نہ ہی خطے میں پائیدار امن کا قیام ممکن ہو سکتا ہے۔