Business
آئی ایم ایف کا انتباہ: اے آئی شیئرز کی گراوٹ عالمی معیشت کے لیے خطرہ
بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے عالمی معیشت کے حوالے سے اہم انتباہ جاری کیا ہے کہ مصنوعی ذہانت کے حصص میں اچانک گراوٹ دنیا بھر کے مالیاتی نظام کے لیے خطرہ بن سکتی ہے۔ اس کے باوجود، تنظیم کا کہنا ہے کہ اے آئی کی سرمایہ کاری عالمی شرح نمو کو سہارا دے رہی ہے۔
بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے خبردار کیا ہے کہ مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے حصص میں کسی بھی قسم کی اچانک گراوٹ عالمی مالیاتی استحکام کے لیے ایک بڑا خطرہ ثابت ہو سکتی ہے۔ ادارہ نے اپنی تازہ ترین رپورٹس میں اس بات پر زور دیا ہے کہ عالمی معیشت بہت جلد اپنی لچک کی آخری حدوں کو چھو سکتی ہے، جس سے مالیاتی منڈیوں میں عدم استحکام کا خدشہ بڑھ گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق، اگرچہ اے آئی ٹیکنالوجی کی وجہ سے پیدا ہونے والی پیداوری صلاحیتیں کچھ خط علاقوں، بالخصوص ایشیا جیسے خطے میں بڑھتی ہوئی عمر کی آبادی کے مسئلے کو حل کرنے میں مدد دے سکتی ہیں، لیکن اس کے ساتھ ساتھ یہ مارکیٹ میں شدید طلاطم کا سبب بھی بن رہی ہیں۔
دوسری جانب، آئی ایم ایف نے مشرق وسطیٰ کے تنازعات اور اے آئی کے شاندار عروج کو مدنظر رکھتے ہوئے سال 2026 کے لیے عالمی اقتصادی ترقی کی پیشگوئی کو معمولی اضافے کے ساتھ 3.1 فیصد تک کر دیا ہے۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ اے آئی کے شعبے میں جاری بھاری سرمایہ کاری نے فی الحال عالمی معیشت کو تین فیصد کے قریب برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کیا ہے، لیکن اس کے ساتھ ہی یہ بڑی نوعیت کی معاشی بندشوں اور تبدیلیوں کا باعث بھی بن رہی ہے۔ ماہرینِ اقتصادیات کا ماننا ہے کہ ٹیکنالوجی کے شعبے میں غیر معمولی تیزی اور سرمایہ کاری کا یہ رجحان جہاں ایک طرف نئے مواقع پیدا کر رہا ہے، وہیں دوسری طرف بلبلہ پھٹنے (Bubble Burst) کا خدشہ بھی سرمایہ کاروں کو پریشان کیے ہوئے ہے۔
اس صورتحال کے پیشِ نظر، دنیا بھر کے مالیاتی اداروں اور پالیسی سازوں کو متنبہ کیا گیا ہے کہ وہ ممکنہ معاشی جھٹکوں سے نمٹنے کے لیے پیشگی اقدامات کریں۔ آئی ایم ایف نے زور دیا ہے کہ حکومتیں اور مرکزی بینک ٹیکنالوجی اور مالیاتی منڈیوں کے باہمی تعلق کو گہرائی سے مانیٹر کریں تاکہ کسی بھی غیر متوقع بحران کی صورت میں فوری ردعمل ظاہر کیا جا سکے۔ عالمی معیشت کے دو حصوں میں تقسیم ہونے کے اس خطرناک دور میں، ٹیکنالوجی کا یہ بے لگام سفر ایک طرف معاشی ترقی کا ضامن بن رہا ہے تو دوسری طرف ایک بڑے مالیاتی حادثے کے اندیشے بھی ساتھ لے کر چل رہا ہے۔