World
برطانوی وزیراعظم کا بریکسٹ پر دوبارہ بحث کا اعلان
برطانیہ کے یورپی یونین سے انخلاء کے بعد یہ پہلا موقع ہے کہ کوئی وزیراعظم اس اہم ترین موضوع پر کھل کر بات کرنے کو تیار ہے۔ بی بی سی کے سیاسی ایڈیٹر کے مطابق موجودہ وزیراعظم اس مباحثے سے کسی بھی قسم کی ہچکچاہٹ کا شکار نہیں ہیں۔
برطانیہ کے یورپی یونین سے انخلاء یعنی بریکسٹ کے معاملے پر ایک بار پھر ملکی سیاسی منظر نامے میں بحث کا آغاز ہو رہا ہے۔ بی بی سی کے سیاسی ایڈیٹر کرس میسن کے مطابق، برطانیہ کے موجودہ وزیراعظم نے اس بات کا عندیہ دیا ہے کہ وہ اس پیچیدہ اور طویل عرصے تک متنازع رہنے والے موضوع پر 'بغیر کسی ہچکچاہٹ کے' کھل کر بات چیت کرنے کے لیے تیار ہیں۔ یہ پیش رفت اس لحاظ سے انتہائی اہم ہے کہ بریکسٹ کے باضابطہ نفاذ کے بعد سے ملکی قیادت نے عموماً اس موضوع پر گریز کی پالیسی اپنائی رکھی تھی تاکہ مزید سیاسی تقسیم سے بچا جا سکے۔ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ برطانوی وزیراعظم کی جانب سے اس اہم ترین ایشو پر دوبارہ بات چیت کرنے کی خواہش کا مقصد ملک کی معاشی اور تجارتی حکمت عملی کو نئے خطوط پر استوار کرنا ہو سکتا ہے۔ بریکسٹ کے بعد سے برطانیہ کو یورپی منڈیوں تک رسائی اور تجارتی معاہدوں کے حوالے سے جن چالشوں کا سامنا رہا ہے، وزیراعظم کا یہ قدم ان مسائل کے حل کے لیے ایک نئی سیاسی سمت کا تعین کر سکتا ہے۔ دوسری جانب، اپوزیشن جماعتوں اور بریکسٹ کے حامی و مخالف حلقوں کی طرف سے اس اعلان پر ملا جلا ردعمل سامنے آیا ہے۔ جہاں کچھ حلقے اس بحث کو وقت کی اہم ضرورت قرار دے رہے ہیں، وہیں کچھ سیاسی رہنماؤں کا ماننا ہے کہ اس پرانے زخم کو دوبارہ کھرچنے سے ملک میں غیر ضروری سیاسی محاذ آرائی جنم لے سکتی ہے۔ تاہم یہ بات طے ہے کہ برطانوی سیاست میں ایک بار پھر بریکسٹ کا باب کھلنے جا رہا ہے اور آنے والے دنوں میں اس موضوع پر گرما گرم بحث متوقع ہے، جس کے اثرات ملکی اور بین الاقوامی سطح پر واضح طور پر محسوس کیے جائیں گے۔