World
روسی جارحیت ٹوٹ چکی ہے: یوکرین کے سابق جنرل کا بیان
یوکرین کے سابق اعلیٰ ترین جنرل اولیکسندر سرسکی نے بی بی سی کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ روس کی جنگی جارحیت اب مکمل طور پر ٹوٹ چکی ہے۔ اپنے عہدے سے ہٹائے جانے کے بعد یہ ان کا پہلا انٹرویو ہے جس میں انہوں نے یوکرین کے مستقبل اور جنگ کی صورتحال پر بات کی ہے۔
یوکرین کی مسلح افواج کے سابق کمانڈر جنرل اولیکسندر سرسکی نے اپنے عہدے سے ہٹائے جانے کے بعد اپنے پہلے انٹرویو میں بڑا دعویٰ کیا ہے۔ برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کو دیے گئے انٹرویو میں ان کا کہنا تھا کہ میدان جنگ میں روس کی جارحانہ صلاحیتیں اب کمزور ہو کر ٹوٹ چکی ہیں اور ماسکو کے لیے مستقبل میں بڑے پیمانے پر پیش قدمی کرنا انتہائی مشکل ہوگا۔ یہ انٹرویو ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب دونوں ممالک کے درمیان طویل عرصے سے خونریز تنازع جاری ہے اور عالمی سطح پر امن کی کوششوں کے حوالے سے چہ مگوئیاں ہو رہی ہیں۔ جنرل سرسکی، جنہوں نے فروری 2024 سے ملک کی عسکری قیادت کی کمان سنبھالی تھی، کو حال ہی میں اس عہدے سے ہٹا دیا گیا تھا۔ اپنے اس تفصیلی انٹرویو کے دوران انہوں نے یوکرین کے دفاعی امور، فوج کی صلاحیتوں اور روس کے خلاف طویل مدتی حکمت عملی پر کھل کر بات کی۔ ان کا کہنا تھا کہ یوکرینی فوج نے انتہائی نامساعد حالات میں بھی دشمن کو روکے رکھا اور اب روسی افواج کی پیش قدمی کی رفتار انتہائی سست پڑ چکی ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق، ایک سینیئر عسکری کمانڈر کی طرف سے اس قسم کا بیان اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ جنگ اب ایک ایسے موڑ پر داخل ہو چکی ہے جہاں دونوں فریقین کو شدید انسانی اور معاشی چیلنجز کا سامنا ہے۔ جنرل سرسکی کا یہ بھی کہنا تھا کہ یوکرین کو اپنی دفاعی صلاحیتوں کو مزید مستحکم کرنے کے لیے بین الاقوامی شراکت داروں کی مسلسل مدد کی ضرورت ہے تاکہ ملک کی خودمختاری کا مکمل تحفظ کیا جا سکے۔ ان کا موقف تھا کہ یوکرین کی افواج نے اپنی لچک اور عزم کا بھرپور مظاہرہ کیا ہے اور وہ ہر ممکن طریقے سے ملک کا دفاع جاری رکھیں گے۔ اس انٹرویو نے عالمی میڈیا میں ایک نئی بحث کو جنم دیا ہے کیونکہ یوکرین کے اندرونی اور بیرونی چیلنجز کے تناظر میں سابق اعلیٰ ترین جنرل کی یہ رائے انتہائی اہمیت کی حامل ہے۔ جنگ کے مستقبل کے حوالے سے ان کے یہ خیالات یوکرین کی سیاسی اور عسکری حلقوں میں بھی گہرے اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔