LIVE
Loading Breaking News...

بی بی سی کی اورلا گوہرین کا یمن میں محاذ جنگ کا دورہ

News Image
بی بی سی کی سینیئر صحافی اورلا گوہرین نے یمن میں بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت کی حامی سکیورٹی فورسز کے ہمراہ ایک دور افتادہ صحرائی محاذ کا دورہ کیا۔ اس دورے کے دوران انہوں نے اس مقام کا جائزہ لیا جہاں چند روز قبل ہی حوثی باغیوں کو پسپا کیا گیا تھا۔
عالمی خبر رساں ادارے بی بی سی کی معروف صحافی اورلا گوہرین نے یمن میں بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ حکومت کے زیر اثر فورسز کے ہمراہ جنگ زدہ علاقوں کا تفصیلی دورہ کیا ہے۔ اس دورے کے دوران انہوں نے ایک ایسے دور افتادہ صحرائی محاذ کا سفر کیا جہاں صرف چند روز قبل ہی شدید لڑائی کے بعد حوثی باغیوں کو پسپا کیا گیا تھا اور سرکاری فورسز نے کامیابی حاصل کی تھی۔ یمن کا یہ خطہ طویل عرصے سے خانہ جنگی اور تنازعات کی زد میں ہے، جہاں دونوں فریقین کے درمیان اقتدار اور علاقے کے کنٹرول کے لیے کشمکش جاری ہے۔ دورے کے دوران اورلا گوہرین نے محاذ جنگ پر موجود جنوبی قومی سکیورٹی فورسز کے جوانوں اور کمانڈروں سے ملاقات کی اور سکیورٹی صورتحال کا جائزہ لیا۔ اس مقام پر حالیہ جھڑپوں کے واضح اثرات موجود ہیں جہاں عسکری تنصیبات اور صحرائی زمین پر جنگ کی تباہ کاریوں کے نشانات دیکھے جا سکتے ہیں۔ فورسز کے اہلکاروں نے صحافی کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ کس طرح شدید مزاحمت کے بعد حوثی باغیوں کو اسٹریٹجک لحاظ سے اہم اس صحرائی علاقے سے پیچھے ہٹنے پر مجبور کیا گیا، جو کہ حکومت کے لیے ایک بڑی عسکری کامیابی مانی جا رہی ہے۔ یمن کا یہ تنازع مشرق وسطیٰ کے سب سے بڑے انسانی اور عسکری بحرانوں میں شمار ہوتا ہے جس نے لاکھوں شہریوں کو متاثر کیا ہے۔ اس محاذ پر سکیورٹی فورسز کی پیش قدمی اور بین الاقوامی میڈیا کی رسائی اس بات کی غمازی کرتی ہے کہ زمینی حقائق کتنے پیچیدہ اور خطرناک ہیں۔ مبصرین کے مطابق، ایسے دور افتادہ علاقوں میں صحافیوں کی رسائی جنگ کی اصل صورتحال کو دنیا کے سامنے لانے میں اہم کردار ادا کرتی ہے، جہاں عام شہریوں کی زندگیوں پر اس طویل جنگ کے گہرے اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔