World
عراق میں جنسی تشدد کے خلاف آواز اٹھانے والی خواتین کو خطرات
عراق میں جنسی تشدد کے خلاف آواز بلند کرنے والی خواتین کو شدید سماجی دباؤ اور جان سے مارنے کی دھمکیوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ متاثرہ خواتین کا کہنا ہے کہ وہ ان تمام خطرات کے باوجود اس اہم مسئلے کو اجاگر کرنے کے لیے اپنے بیانات شیئر کر رہی ہیں۔
عراق میں جنسی تشدد اور استحصال کے خلاف آواز اٹھانا خواتین کے لیے ایک انتہائی خطرناک اور جان جوکھوں کا کام بن چکا ہے۔ ملک میں روایتی اور پدر شاہی اقدار کی وجہ سے اس نوعیت کے جرائم پر کھل کر بات کرنا پہلے ہی ایک بڑا سماجی ٹیبو سمجھا جاتا ہے، لیکن جب کوئی خاتون اپنے اوپر ہونے والے جبر کے خلاف قدم اٹھاتی ہے تو اسے شدید نتائج کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ حالیہ رپورٹس کے مطابق، بہت سی عراقی خواتین نے انکشاف کیا ہے کہ انہیں جنسی تشدد کے واقعات کو پبلک کرنے پر موت کی دھمکیاں دی جاتی ہیں اور انہیں معاشرے میں تنہا چھوڑ دیا جاتا ہے۔
اس کے باوجود، بہادر عراقی خواتین خاموش بیٹھنے کو تیار نہیں ہیں۔ ان کا عزم ہے کہ وہ اپنی کہنیوں اور کہانیاں اور تلخ حقائق دنیا کے سامنے لائیں گی تاکہ اس سنگین مسئلے کی طرف حکومتی اور بین الاقوامی سطح پر توجہ مبذول کروائی جا سکے۔ ان کا ماننا ہے کہ اگر وہ خوفزدہ ہو کر چپ سادھ لیں گی تو یہ مظالم کبھی ختم نہیں ہوں گے اور آنے والی نسلوں کو بھی اسی تکلیف سے گزرنا پڑے گا۔ سماجی دباؤ اور ذاتی حفاظت کے شدید خدشات کے باوجود یہ خواتین انصاف کے حصول کے لیے پرعزم ہیں۔
انسانی حقوق کی تنظیموں نے اس صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے عراقی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ خواتین کے تحفظ کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات کرے۔ تنظیموں کا کہنا ہے کہ جنسی تشدد کے مرتکب افراد کو قانون کے کٹہرے میں لایا جانا چاہیے اور متاثرہ خواتین کو مکمل قانونی و سماجی تحفظ فراہم کیا جانا تاکہ وہ بغیر کسی خوف کے اپنی آواز بلند کر سکیں۔