World
امریکہ میں کدو کا سالانہ مقابلہ، ٹریوس جینګر نے پانچویں بار کامیابی حاصل کی
امریکہ سے تعلق رکھنے والے ایک باغبانی کے استاد نے سالانہ کدو کے مقابلے میں شاندار فتح حاصل کرتے ہوئے ایک بار پھر ٹائٹل اپنے نام کر لیا ہے۔ اب وہ اپنے اس विशाल کدو کے ساتھ دنیا کا نیا ریکارڈ قائم کرنے کی دوڑ میں شامل ہو چکے ہیں۔
امریکہ سے تعلق رکھنے والے باغبانی کے ایک ماہر اور استاد ٹریوس جینګر نے کدو کے سالانہ مقابلے میں شاندار کامیابی حاصل کرتے ہوئے ایک بار پھر سب کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ یہ ان کی اس باوقار مقابلے میں پانچویں بڑی فتح ہے، جس نے انہیں عالمی سطح پر ایک بار پھر سرخیوں کا حصہ بنا دیا ہے۔ ان کی یہ مسلسل کامیابی اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ پودوں کی افزائش اور خاص طور پر دیوقامت کدو اگانے کے فن میں مہارت تامہ رکھتے ہیں۔
اس سال کے مقابلے کے لیے ٹریوس جینګر نے اپنے اس وزنی اور بڑے کدو کو ریاست منیسوٹا سے طویل سفر طے کروا کر کیلیفورنیا کے شہر ہاف مون بے پہنچایا۔ اتنے طویل فاصلے تک اس دیوقامت کدو کی نقل و حرکت کرنا اور اسے محفوظ حالت میں مقابلے کی جگہ تک لانا ایک انتہائی کٹھن مرحلہ تھا، جسے انہوں نے کامیابی سے سر انجام دیا۔ اس سالانہ ایونٹ میں ملک بھر سے کدو اگانے کے ماہرین نے اپنے اپنے شاہکار پیش کیے، تاہم ٹریوس کا کدو سب میں نمایاں رہا اور ججز نے اسے بہترین قرار دیا۔
اس شاندار جیت کے بعد ٹریوس جینګر کی نظیں اب کدو کے ایک نئے اور منفرد عالمی ریکارڈ پر لگی ہوئی ہیں۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ جس سائز اور وزنی ساخت کا یہ کدو ہے، وہ نہ صرف قومی بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی کئی پرانے ریکارڈ توڑ سکتا ہے۔ کدو اگانے کے اس شوق نے نہ صرف ٹریوس کو شہرت بخشی ہے بلکہ دنیا بھر میں باغبانی سے وابستہ افراد کے لیے بھی ایک نئی تحریک پیدا کی ہے کہ لگن اور محنت سے ناممکن کو بھی ممکن بنایا جا سکتا ہے۔