Entertainment
بی بی سی نے دی آرچرز اسٹوڈیو کا منصوبہ اخراجات کم کرنے کے لیے معطل کر دیا
بی بی سی نے اخراجات میں کمی کی مہم کے تحت اپنے طویل عرصے سے چلنے والے مقبول ریڈیو ڈرامے دی آرچرز کے لیے نئے اسٹوڈیو کی تعمیر کا منصوبہ روک دیا ہے۔ یہ ڈرامہ گزشتہ پچھتر سالوں سے برمنگھم میں ریکارڈ کیا جا رہا ہے جو اسے دنیا کا طویل ترین چلنے والا صابن اوپیرا بناتا ہے۔
برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی نے اخراجات میں کمی کے وسیع تر منصوبے کے تحت اپنے معروف اور طویل عرصے سے نشر ہونے والے ریڈیو ڈرامے ’دی آرچرز‘ کے لیے ایک بالکل نئے اسٹوڈیو کی تعمیر کے منصوبے کو فی الحال معطل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ ڈرامہ نہ صرف برطانیہ بلکہ پوری دنیا میں اپنی انفرادیت اور طویل تاریخ کی وجہ سے شہرت رکھتا ہے اور اس کی پیداوار سے وابستہ اخراجات کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ بی بی سی کی جانب سے مالیاتی دباؤ کو کم کرنے کے لیے یہ قدم اٹھایا گیا ہے تاکہ نشریاتی ترجیحات کو بہتر بنایا جا سکے۔
یہ بات قابل ذکر ہے کہ مقبول صابن اوپیرا ’دی آرچرز‘ نے حال ہی میں اپنی نشریات کے پچھتر سال مکمل کیے ہیں اور یہ تاریخی ڈرامہ گزشتہ پچھتر سالوں سے مسلسل برمنگھم کے شہر میں ہی ریکارڈ کیا جاتا رہا ہے۔ اتنی طویل مدت سے ایک ہی شہر میں ریکارڈ ہونے کی وجہ سے یہ دنیا کا طویل ترین چلنے والا صابن اوپیرا بن چکا ہے جس کے دنیا بھر میں لاکھوں مداح موجود ہیں۔ مداحوں اور پروڈکشن ٹیم کو امید تھی کہ نئے اسٹوڈیو کی تعمیر سے اس کے معیار اور سہولیات میں مزید بہتری آئے گی، تاہم مالی مجبوریوں نے اس منصوبے کو فی الحال روک دیا ہے۔
بی بی سی کے ترجمان کا کہنا ہے کہ ادارے کو اس وقت شدید مالیاتی چیلنجز کا سامنا ہے جس کی وجہ سے تمام کیپٹل اور انفراسٹرکچر منصوبوں پر نظرثانی کی جا رہی ہے۔ اخراجات میں کٹوتی کا یہ فیصلہ ناگزیر تھا تاکہ ادارے کی بنیادی نشریاتی خدمات کو بچایا جا سکے اور فنڈز کا درست استعمال یقینی بنایا جا سکے۔ منتظمین کا یہ بھی کہنا ہے کہ اسٹوڈیو کا منصوبہ معطل ہونے کے باوجود ’دی آرچرز‘ کی باقاعدہ ریکارڈنگ اور نشریات پر کوئی منفی اثر نہیں پڑے گا اور یہ سلسلہ حسب معمول جاری رہے گا۔
شائقین اور ثقافتی حلقوں کی جانب سے اس فیصلے پر ملے جلے ردعمل کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ بہت سے لوگ برمنگھم میں اس تاریخی ڈرامے کی طویل روایت پر فخر محسوس کرتے ہیں اور وہ چاہتے ہیں کہ اس کے لیے بہترین وسائل فراہم کیے جائیں۔ تاہم، موجودہ معاشی صورتحال اور بی بی سی کی مالی پالیسیوں کے پیش نظر، اسٹوڈیو کی تعمیر کا التواء اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ نشریاتی ادارے کو اس وقت کٹھن مالیاتی فیصلوں کا سامنا ہے۔