LIVE
Loading Breaking News...

برطانوی SAS قتل کی تحقیقات، ملٹری پولیس کو شواہد تک رسائی سے روکنے کا انکشاف

News Image
برطانوی فوج کی اسپیشل ایئر سروس کے مبینہ قتل کے مقدمات کی تحقیقات کے دوران ملٹری پولیس کو شواہد کا پیچھا کرنے سے روکا گیا۔ انکوائری کے دوران تفتیش کار نے انکشاف کیا ہے کہ اس تحقیقات کو اوپر سے حکم کے تحت کنٹرول کیا جا رہا تھا۔
برطانوی فوج کی معروف اسپیشل ایئر سروس (SAS) کے مبینہ قتل کے مقدمات کے حوالے سے جاری ایک اہم انکوائری میں حیرت انگیز انکشافات سامنے آئے ہیں۔ انکوائری میں گواہی دیتے ہوئے ایک ملٹری پولیس تفتیش کار نے بتایا ہے کہ اس حساس تحقیقات کو جان بوجھ کر اوپر سے احکامات کے تحت روکا گیا اور تفتیش کاروں کو درست سمت میں شواہد کا پیچھا کرنے کی اجازت نہیں دی گئی۔ اس انکشاف نے برطانوی فوجی حلقوں اور حکومتی سطح پر ہلچل مچا دی ہے، کیونکہ یہ الزامات ادارے کے اندرونی نظام اور شفافیت پر بڑے سوالیہ نشان اٹھاتے ہیں۔ تفتیش کار نے انکوائری کے روبرو بیان دیا کہ مبینہ غیر قانونی ہلاکتوں کے اس معاملے میں جب بھی تفتیش کاروں نے اہم شواہد اکٹھے کرنے کی کوشش کی یا کسی گہرے سراغ کی طرف قدم بڑھایا، تو انہیں اعلیٰ حکام کی طرف سے مبینہ طور پر روکا گیا۔ یہ صورتحال تحقیقاتی ٹیم کے لیے شدید مایوسی کا باعث بنی، جو پیشہ ورانہ انداز میں حقائق تک پہنچنا چاہتی تھی۔ گواہ کے مطابق، تفتیش کو اوپر سے حکم کے تحت چلایا جا رہا تھا جس کا مقصد بعض مخصوص حقائق کو سامنے آنے سے روکنا یا تحقیقات کا دائرہ محدود کرنا تھا۔ یہ انکوائری ایسے وقت میں جاری ہے جب برطانوی فوج کو ماضی میں پیش آنے والے مختلف جنگی جرائم اور متنازعہ کارروائیوں کے الزامات کا سامنا ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیمیں اور متاثرین کے اہل خانہ طویل عرصے سے اس بات کا مطالبہ کرتے رہے ہیں کہ اسپیشل ایئر سروس کے اہلکاروں کے خلاف تمام شکایات کی مکمل، غیر جانبدارانہ اور شفاف تحقیقات کی جائیں۔ ملٹری پولیس کے تفتیش کار کا یہ حالیہ بیان اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ نظام کے اندر ایسے عناصر موجود ہیں جو احتساب کے عمل کو سبوتاژ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ انکوائری کمیٹی اب ان تمام دعوؤں اور شواہد کا باریک بینی سے جائزہ لے رہی ہے تاکہ یہ تعین کیا جا سکے کہ کس سطح پر اور کن احکامات کے تحت تفتیش کو متاثر کیا گیا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ ثابت ہو جاتا ہے کہ فوجی یا حکومتی اعلیٰ حکام نے تحقیقات میں مداخلت کی ہے، تو یہ برطانوی دفاعی نظام کے لیے ایک بہت بڑا اسکینڈل بن سکتا ہے۔ آنے والے دنوں میں اس انکوائری کے مزید نتائج سامنے آنے کی توقع ہے جو اس پورے معاملے پر مزید روشنی ڈالیں گے۔