LIVE
Loading Breaking News...

آئی ایم ایف رپورٹ: مشرق وسطیٰ کی معیشت 2026 میں متاثر ہونے کا انتباہ

News Image
بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے مطابق امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ کے اثرات کے باعث 2026 میں مشرق وسطیٰ اور وسطی ایشیا کی معیشتوں میں نمایاں کمی متوقع ہے۔ عراق، بحرین، کویت اور قطر کو جی ڈی پی میں دوہرے ہندسے کی بڑی گراوٹ کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے اپنی تازہ ترین معاشی رپورٹ میں ہوشربا انکشاف کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ مشرق وسطیٰ اور وسطی ایشیا کے خطے میں جاری کشیدگی اور جنگی صورتحال کے معیشت پر انتہائی منفی اثرات مرتب ہوں گے۔ رپورٹ کے مطابق سال 2026 کے دوران اس خطے کی مجموعی معیشت سکڑنے کا خدشہ ہے، جس کی بنیادی وجہ امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جاری جنگ اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والا علاقائی عدم استحکام ہے۔ ماہرینِ معیشت نے اس صورتحال کو خطے کے مالیاتی ڈھانچے کے لیے ایک بڑا دھچکا قرار دیا ہے۔اس جنگ کے براہِ راست اور بالواسطہ اثرات کی زد میں آنے والے ممالک میں عراق، بحرین، کویت اور قطر سرفہرست ہیں۔ آئی ایم ایف کے تخمینے کے مطابق ان ممالک کو اپنی مجموعی گھریلو پیداوار یعنی جی ڈی پی (GDP) میں دوہرے ہندسے کی کمی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ توانائی کی سپلائی لائنز میں خلل، تجارتی راستوں کی بندش اور خطے میں سرمایہ کاری کا انخلا وہ بنیادی عوامل ہیں جو ان معاشی مشکلات کو مزید سنگین بنا رہے ہیں۔ معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس بحران سے نکلنے کے لیے طویل المدتی حکمت عملی اور علاقائی امن ناگزیر ہو چکا ہے۔علاقائی سطح پر معاشی سست روی نہ صرف ان چند ممالک تک محدود رہے گی بلکہ اس کے اثرات پورے خطے کے مالیاتی نظام پر پڑیں گے۔ حکومتوں کو اپنے ترقیاتی بجٹ میں کٹوتیاں کرنا پڑ سکتی ہیں اور مہنگائی کی شرح میں بھی اضافہ متوقع ہے۔ آئی ایم ایف نے عالمی برادری اور متاثرہ ممالک کے پالیسی سازوں پر زور دیا ہے کہ وہ اس ممکنہ معاشی طوفان سے نمٹنے کے لیے فوری اقدامات کریں تاکہ متوسط طبقے اور عام شہریوں کو اس کے بدترین اثرات سے محفوظ رکھا جا سکے اور معاشی استحکام کو بحال کیا جا سکے۔