Education
اسکولوں میں موبائل فونز پر پابندی کا مطالبہ، نیا سروے جاری
اسکولوں میں موبائل فون کے استعمال پر پابندی کے حوالے سے ایک نئے عوامی سروے کے نتائج سامنے آئے ہیں جن میں اکثریت نے اس اقدام کی حمایت کی ہے۔ سروے کے مطابق اس وقت 77 فیصد بالغ افراد اس بات کے حق میں ہیں کہ کلاس رومز میں فونز کا داخلہ بند کیا جائے۔
کیا تعلیمی اداروں اور اسکولوں میں موبائل فون کے استعمال پر مکمل پابندی عائد ہونی چاہیے؟ یہ ایک ایسا سوال ہے جس پر حالیہ برسوں کے دوران والدین، اساتذہ اور ماہرینِ تعلیم کے درمیان طویل بحث جاری ہے۔ دنیا بھر کے کئی ممالک اور ریاستیں اسکولوں میں طلبہ کی توجہ پڑھائی پر مرکوز رکھنے کے لیے سخت قواعد و ضوابط نافذ کر رہی ہیں۔ اس حوالے سے سامنے آنے والے ایک تازہ ترین عوامی سروے نے اس بحث کو مزید گرما دیا ہے، جس میں یہ انکشاف ہوا ہے کہ ایک بڑی اکثریت اسکولوں میں موبائل فونز پر پابندی کی حامی ہے۔
سروے کے نتائج کے مطابق تقریباً 77 فیصد بالغ افراد اب اس بات کے حق میں ہیں کہ اسکول کے اوقات کے دوران کلاس رومز میں موبائل فونز کے استعمال پر پابندی عائد کی جانی چاہیے۔ اس تناسب سے ظاہر ہوتا ہے کہ معاشرے میں اس بات پر تشویش بڑھ رہی ہے کہ اسمارٹ فونز اور سوشل میڈیا طلبہ کی تعلیمی کارکردگی، ذہنی صحت اور اسکول میں ان کی توجہ پر منفی اثرات مرتب کر رہے ہیں۔ بہت سے والدین کا یہ ماننا ہے کہ فونز کی موجودگی کی وجہ سے طلبہ پڑھائی کے بجائے اسکرینز پر زیادہ وقت صرف کرتے ہیں جس سے ان کی تعلیمی سرگرمیاں متاثر ہوتی ہیں۔
دوسری جانب، اس موضوع کے دوسرے رخ پر بھی بحث جاری ہے جہاں کچھ ماہرین کا خیال ہے کہ ڈیجیٹل دور میں بچوں کو ٹیکنالوجی سے بالکل الگ تھلگ نہیں کیا جا سکتا۔ ان کا مؤقف ہے کہ اسکولوں میں فونز پر مکمل پابندی کے بجائے ان کے استعمال کے لیے ضابطہ اخلاق اور مناسب پالیسیاں بنائی جانی چاہئیں تاکہ ہنگامی صورتحال میں والدین اور بچوں کے درمیان رابطہ بحال رہ سکے۔ اس کے باوجود تازہ ترین سروے کے نتائج بتاتے ہیں کہ عامتہ الناس کا رجحان سختی کی طرف زیادہ ہے اور وہ تعلیمی ماحول کو بہتر بنانے کے لیے اسکولوں میں موبائل فونز کے داخلے پر قدغن لگانے کے حق میں ہیں۔