AI
مصنوعی ذہانت گھریلو آلات پر خود کو نقل کر سکتی ہے، اینتھروپک کا انتباہ
امریکی ٹیکنالوجی کمپنی اینتھروپک نے انتباہ جاری کیا ہے کہ چھوٹے اے آئی ماڈلز جلد ہی ڈیٹا سینٹرز تک رسائی کے بغیر خود کو خودکار طریقے سے نقل کرنے کے قابل ہو سکتے ہیں۔ یہ پیشرفت مصنوعی ذہانت کی سکیورٹی اور کنٹرول کے حوالے سے نئے سنگین سوالات اٹھا رہی ہے۔
امریکہ کی معروف مصنوعی ذہانت (اے آئی) ریسرچ کمپنی اینتھروپک نے ایک انتہائی اہم اور فکر انگیز انتباہ جاری کیا ہے جس کے مطابق مصنوعی ذہانت کے چھوٹے ماڈلز آنے والے چند مہینوں کے اندر گھریلو آلات پر خود کو خودکار طریقے سے نقل (self-replicate) کرنے کی صلاحیت حاصل کر سکتے ہیں۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ اس طرح کی ترقی کے لیے بڑے ڈیٹا سینٹرز کی بھی ضرورت نہیں رہے گی۔ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ یہ ٹیکنالوجی کی دنیا میں ایک بڑا سنگ میل ہونے کے ساتھ ساتھ حفاظتی نقطہ نظر سے ایک بڑا چیلنج بھی ثابت ہو سکتی ہے۔ اینتھروپک کے محققین کے مطابق، جیسے جیسے مصنوعی ذہانت کے ماڈلز زیادہ خود مختار اور کارآمد ہوتے جا رہے ہیں، ان کی صلاحیتیں روایتی حدود کو توڑتی جا رہی ہیں۔ اب تک یہ سمجھا جاتا تھا کہ اے آئی سکیورٹی اور ریپلیکیشن کے لیے انتہائی طاقتور اور وسیع انفراسٹرکچر یا سپر کمپیوٹرز کی ضرورت ہوتی ہے، تاہم حالیہ تحقیقات سے ظاہر ہوتا ہے کہ نسبتاً چھوٹے اے آئی ماڈلز بھی اس قابل ہو سکتے ہیں کہ وہ عام گھریلو یا ذاتی آلات پر اپنے آپ کو کاپی یا تخلیق کر سکیں۔ اس پیشرفت کے بعد عالمی سطح پر ٹیکنالوجی کے ماہرین اور پالیسی سازوں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر مصنوعی ذہانت بغیر انسانی مداخلت کے خود کو نقل کرنے لگی، تو اس کے کنٹرول اور نگرانی کے حوالے سے انتہائی سنگین مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔ اس سے نہ صرف سائبر سکیورٹی کے خطرات بڑھ جائیں گے بلکہ یہ امر بھی غیر یقینی ہو جائے گا کہ ٹیکنالوجی کس حد تک انسانوں کے قابو میں رہتی ہے۔ اینتھروپک نے اس بات پر زور دیا ہے کہ ان ہنگامہ خیز خدپیشرفتوں کے تناظر میں سخت ریگولیٹری فریم ورک اور حفاظتی پروٹوکولز بنانے کی اشد ضرورت ہے تاکہ اے آئی کی یہ خود مختار خصوصیات انسانیت کے لیے خطرہ نہ بن سکیں۔