World
ریاض پر حوثی حملے اور سعودی عرب کے چیلنجز
حوثی باغیوں کی جانب سے دارالحکومت ریاض اور سعودی ہوائی اڈوں پر حملوں کے بعد خطے میں کشیدگی خطرناک حد تک بڑھ گئی ہے۔ سعودی عرب نے اس بڑھتی ہوئی جارحیت کے خلاف بھرپور اور سنجیدہ جوابی کارروائی کا تہیہ کیا ہے۔
ریاض پر حوثی باغیوں کے حالیہ حملوں کے بعد مشرق وسطیٰ کی سلامتی پر ایک بار پھر گہرے بادل منڈلانے لگے ہیں۔ ذرائع ابلاغ کی رپورٹس کے مطابق سعودی عرب کو امریکہ اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی کی بھاری قیمت چکانا پڑ رہی ہے کیونکہ ایران کی حمایت یافتہ ملیشیا کی جانب سے حملوں کا سلسلہ مسلسل تیز ہوتا جا رہا ہے۔ حال ہی میں ہونے والے مہلک ہوائی اڈوں کے حملوں کے دوران سعودی وارننگ سسٹم کے خاموش رہنے کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں، جس سے ملکی دفاعی حکمت عملی پر سوالیہ نشان لگ گئے ہیں۔ دنیا بھر کے اہم خبر رساں اداروں کے مطابق، سعودی فضائی دفاعی نظام نے دارالحکومت ریاض اور دیگر علاقوں کو نشانہ بنانے والے کئی میزائلوں کو فضا میں ہی ناکام بنایا ہے، تاہم ان حملوں کے نتیجے میں خطے میں ایک نئی جنگ کا خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ تازہ پیش رفت ولی عہد کے لیے بھی سخت سیاسی اور دفاعی چیلنجز لے کر آئی ہے کیونکہ عسکریت پسندوں کی جانب سے دباؤ میں مسلسل اضافہ کیا جا رہا ہے۔ سعودی حکومت نے ان تمام حملوں کو انتہائی سنجیدگی سے لیتے ہوئے سخت جوابی کارروائی کا عزم ظاہر کیا ہے تاکہ ملکی سرحدوں اور شہریوں کے جان و مال کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔ صورتحال کی نزاکت کو دیکھتے ہوئے عالمی رہنماؤں نے بھی فریقین سے تحمل کا مظاہرہ کرنے کی اپیل کی ہے، لیکن زمینی حقائق یہ بتاتے ہیں کہ آنے والے دنوں میں کشیدگی میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔