LIVE
Loading Breaking News...

سہیل آفریدی کی بازیابی: پشاور ہائی کورٹ میں اہم درخواست دائر

News Image
خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ کے بھائی سہیل آفریدی کی مبینہ غیر قانونی حراست کے خلاف پشاور ہائی کورٹ میں درخواست دائر کر دی گئی ہے۔ درخواست گزار نے اپنے بھائی کی بازیابی اور ان کے ٹھکانے کے بارے میں معلومات فراہم کرنے کی استدعا کی ہے۔
خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ کے بھائی سہیل آفریدی کی مبینہ غیر قانونی حراست کے معاملے پر قانونی کارروائی کا آغاز ہو گیا ہے۔ سہیل آفریدی کے بھائی نے پشاور ہائی کورٹ میں ایک آئینی درخواست دائر کی ہے جس میں ان کی بازیابی اور فوری رہائی کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ سہیل آفریدی کو بغیر کسی قانونی جواز کے حراست میں لیا گیا ہے اور اہل خانہ کو ان کی موجودہ حالت اور ٹھکانے کے بارے میں کوئی اطلاع نہیں دی جا رہی۔ اس سے قبل صوبائی کابینہ کے ارکان کی حراست اور سہیل آفریدی کے معاملے پر مختلف حلقوں کی جانب سے تحفظات کا اظہار کیا گیا تھا۔ ذرائع کے مطابق گورنر خیبر پختونخوا نے بھی اس معاملے پر اپنے حالیہ بیانات میں تصدیق کی ہے کہ سہیل آفریدی حفاظتی تحویل میں ہیں، تاہم ان کے اہل خانہ کا کہنا ہے کہ حکومتی اداروں کی جانب سے ان کی گرفتاری کے حوالے سے کوئی شفاف طریقہ کار اختیار نہیں کیا گیا اور انہیں نامعلوم مقام پر رکھا گیا ہے۔ پشاور ہائی کورٹ کے روبرو دائر درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ عدالت متعلقہ حکام کو سہیل آفریدی کو پیش کرنے کا حکم دے۔ دوسری جانب سیاسی حلقوں میں بھی سہیل آفریدی کی بازیابی کے حوالے سے بحث جاری ہے، اور حزب اختلاف کی جماعتیں اس واقعے کو سیاسی انتقام قرار دے رہی ہیں۔ تاہم سرکاری حکام کا موقف ہے کہ ان اقدامات کا مقصد صوبے میں امن و امان کی صورتحال کو برقرار رکھنا اور حفاظتی اقدامات کے تحت اٹھائے گئے ہیں۔ پشاور ہائی کورٹ اب اس معاملے کی سماعت کرے گی اور توقع ہے کہ عدالت اس کیس میں متعلقہ اداروں سے جواب طلبی کرے گی۔ اس کیس کے قانونی پہلوؤں پر ماہرین قانون اپنی رائے دے رہے ہیں کہ کسی بھی شہری کو بغیر کسی قانونی جواز کے طویل مدت تک حراست میں رکھنا بنیادی حقوق کی خلاف ورزی تصور کیا جاتا ہے۔