Pakistan
پاکستان کا آئی ایم ایف اور عالمی بینک کے بارورز پلیٹ فارم کا نیا سربراہ
وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے بنکاک میں منعقدہ اجلاس کے دوران بارورز پلیٹ فارم کی چیئرمین شپ سنبھالی ہے۔ پاکستان کا یہ کردار بین الاقوامی مالیاتی اداروں کے ساتھ بہتر تعلقات اور اصلاحات کے ایجنڈے کو فروغ دینے کے لیے اہم سمجھا جا رہا ہے۔
پاکستان نے بنکاک میں منعقدہ عالمی بینک اور آئی ایم ایف کے حالیہ اجلاسوں کے دوران 'بارورز پلیٹ فارم' کی صدارت سنبھال لی ہے۔ وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کی قیادت میں پاکستان اس اہم فورم کی سربراہی کرے گا، جس کا بنیادی مقصد قرض لینے والے ممالک کے مفادات کا تحفظ اور بین الاقوامی مالیاتی نظام میں اصلاحات کو یقینی بنانا ہے۔ وفاقی وزیر خزانہ اس دورے کے دوران عالمی مالیاتی اداروں کے حکام کے ساتھ ملاقاتیں کر رہے ہیں تاکہ پاکستان کی معاشی پالیسیوں اور اصلاحاتی ایجنڈے کو اجاگر کیا جا سکے۔
اس موقع پر وزیر خزانہ نے جی-24 (G-24) کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ بین الاقوامی مالیاتی فن تعمیر (International Financial Architecture) میں بنیادی تبدیلیوں کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ عالمی مالیاتی ڈھانچہ ترقی پذیر ممالک کی ضروریات کو پورا کرنے میں ناکام رہا ہے، لہذا پاکستان بطور چیئرمین قرض لینے والے ممالک کی اجتماعی آواز بن کر ابھرے گا۔ وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ پاکستان کا یہ کردار نہ صرف ملک کے لیے سفارتی کامیابی ہے بلکہ یہ معاشی میدان میں پاکستان کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کی عکاسی بھی کرتا ہے۔
اجلاس کے دوران پاکستان نے قرض لینے والے ممالک کے لیے بہتر شرائط، کم لاگت فنانسنگ اور موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کے لیے فنڈز کے حصول پر توجہ مرکوز کرنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔ محمد اورنگزیب نے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (IMF) اور عالمی بینک کے اعلیٰ عہدیداروں پر زور دیا کہ وہ ترقی پذیر معیشتوں کو درپیش چیلنجز کے پیش نظر اپنی پالیسیوں میں لچک پیدا کریں۔ پاکستان کی یہ صدارت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ملک خود معاشی استحکام کے مرحلے سے گزر رہا ہے اور عالمی سطح پر اپنی ساکھ بحال کرنے کی کوششوں میں مصروف ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق، اس پلیٹ فارم کی قیادت سنبھال کر پاکستان اب عالمی سطح پر پالیسی سازی کے عمل میں زیادہ فعال کردار ادا کر سکے گا۔ یہ پیش رفت پاکستان کے لیے بین الاقوامی مالیاتی حلقوں میں اپنی بات مؤثر انداز میں منوانے کا ایک بہترین موقع ہے۔ وزیر خزانہ کے دورے کے اختتام تک مزید اہم ملاقاتیں متوقع ہیں جن سے ملک میں سرمایہ کاری کے نئے مواقع اور طویل مدتی معاشی تعاون کے معاہدوں کی توقع کی جا رہی ہے۔