LIVE
Loading Breaking News...

شمالی کوریا کا ٹیکٹیکل بیلسٹک میزائل تجربہ اور خطے کی صورتحال

News Image
شمالی کوریا نے ایک نئے ٹیکٹیکل بیلسٹک میزائل کے کامیاب تجربے کی باضابطہ تصدیق کر دی ہے۔ جنوبی کوریا کے ہائپرسونک میزائل تجربے کے چند روز بعد ہونے والے اس اقدام سے خطے میں کشیدگی بڑھ گئی ہے۔
پانگ یانگ: شمالی کوریا نے حال ہی میں ایک نئے ٹیکٹیکل بیلسٹک میزائل کے کامیاب تجربے کی باضابطہ تصدیق کر دی ہے۔ کوریائی میڈیا کے مطابق، اس عسکری تجربے کو ملک کی دفاعی صلاحیتوں کو مزید مستحکم کرنے کے سلسلے میں ایک بڑی کامیابی قرار دیا گیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ تجربہ ملکی سلامتی کے تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا گیا ہے تاکہ کسی بھی ممکنہ بیرونی خطرے کا مؤثر جواب دیا جا سکے۔ تجزیہ کار اس پیش رفت کو انتہائی اہمیت کی نگاہ سے دیکھ رہے ہیں کیونکہ یہ قدم خطے میں پہلے سے موجود تناؤ کو مزید بڑھا سکتا ہے۔ یاد رہے کہ یہ نیا تجربہ جنوبی کوریا کی جانب سے ہائپرسونک میزائل کا تجربہ کیے جانے کے چند روز بعد سامنے آیا ہے۔ سیئول میں موجود دفاعی ماہرین کا ماننا ہے کہ شمالی کوریا کا یہ تازہ اقدام دراصل جنوبی کوریا کے حالیہ تجربے کے ردعمل کے طور پر اٹھایا گیا ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان حالیہ ہفتوں میں عسکری مسابقت اور لفظی جنگ میں بھی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جس سے پورے خطے میں سیکیورٹی کے حوالے سے خدشات گہرے ہو گئے ہیں۔ عالمی برادری اور بالخصوص امریکہ، چین اور تائیوان جیسے اہم کھلاڑی اس صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔ دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس طرح کے تسلسل سے خطے میں طاقت کا توازن متاثر ہو سکتا ہے اور ایک نئے عسکری بحران کا خطرہ پیدا ہو سکتا ہے۔ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے باوجود شمالی کوریا کی جانب سے میزائل پروگرام کا جاری رہنا بین الاقوامی سطح پر تشویش کی سب سے بڑی وجہ بنا ہوا ہے۔ تاحال کسی بڑے سفارتی اقدام کا اعلان نہیں کیا گیا لیکن ماہرین کا خیال ہے کہ اگر کشیدگی میں مزید اضافہ ہوا تو علاقائی اور عالمی سطح پر سفارتی کوششیں تیز کرنا پڑیں گی۔