LIVE
Loading Breaking News...

دی گرل ان دی ریوڑ فلم کا ریویو اور تجزیہ

News Image
برطانوی اخبار دی گارڈین میں شائع ہونے والے ایک جائزے کے مطابق نئی فلم 'دی گرل ان دی ریوڑ' اپنی صنف میں سنجیدہ رہنے کے بجائے نائر پیروڈی کی طرح محسوس ہوتی ہے۔ یہ کہانی ایک فارنزک سائیکالوجسٹ کے ارد گرد گھومتی ہے جو پولیس کے طریقہ کار کے تحت تفتیش کرتی ہے۔
فلمی دنیا میں حال ہی میں ریلیز ہونے والی نئی پولیس پروسیجرل تھرلر فلم 'دی گرل ان دی ریوڑ' پر ناقدین کی جانب سے ملے جلے ردعمل کا اظہار کیا گیا ہے۔ برطانوی اخبار دی گارڈین میں شائع ہونے والے ایک تفصیلی جائزے میں اس بات پر روشنی ڈالی گئی ہے کہ یہ فلم اپنی سنجیدہ صنف کے باوجود نائر پیروڈی کی طرح دکھائی دیتی ہے۔ فلم کی مرکزی کہانی ایک ماہر فارنزک سائیکالوجسٹ کے گرد گھومتی ہے جو سنگین جرائم کی تفتیش میں پولیس کی مدد کرتی ہے اور مجرموں تک پہنچنے کے لیے نفسیاتی حربے استعمال کرتی ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ فلم کے مکالمے اور ہدایت کاری اس انداز میں پیش کی گئی ہے کہ سنسنی خیز اور تاریک ماحول پیدا کرنے کے بجائے ناظرین کو غیر ارادی طور پر مزاحیہ محسوس ہوتا ہے۔ فلم کی کہانی میں کئی ایسے موڑ آتے ہیں جو روایتی پولیس کہانیوں کی عکاسی کرتے ہیں، لیکن ان کا نفاذ کچھ اس انداز میں کیا گیا ہے کہ وہ اصل صنف کا مذاق اڑاتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ اس کے باوجود فلم کی سنیماٹوگرافی اور اداکاری کے بعض پہلوؤں کو سراہا گیا ہے جنہوں نے ناظرین کو اپنی طرف متوجہ کیا۔ اگرچہ یہ فلم روایتی تھرلر ناظرین کے لیے ایک انوکھا تجربہ ثابت ہو سکتی ہے، لیکن جنہیں سنجیدہ جاسوسی کہانیاں پسند ہیں، وہ اس کے طنزیہ اور پیروڈی نما انداز سے مایوس بھی ہو سکتے ہیں۔ آنے والے دنوں میں یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ باکس آفس پر یہ فلم کس قسم کا کاروباری تسلسل برقرار رکھ پاتی ہے اور عام ناظرین اس کے اس غیر معمولی انداز کو کس حد تک قبول کرتے ہیں۔