World
برطانیہ کو روس، ایران اور اے آئی سے خطرات: ایم آئی 5 سربراہ کی وارننگ
برطانوی انٹیلی جنس ایجنسی ایم آئی 5 کے سربراہ سر کین میک کالم نے خبردار کیا ہے کہ برطانیہ کو سرد جنگ کے بعد سے اب تک کے سب سے بڑے ریاستی خطرات کا سامنا ہے۔ انہوں نے مصنوعی ذہانت کے غلط استعمال اور اس کے ذریعے ڈرونز اور حیاتیاتی ہتھیاروں کی تیاری کے خدشات کا بھی اظہار کیا ہے۔
برطانوی انٹیلی جنس ایجنسی ایم آئی 5 (MI5) کے سربراہ سر کین میک کالم نے خبردار کیا ہے کہ برطانیہ کو اس وقت سرد جنگ کے دور کے مقابلے میں کہیں زیادہ اور پیچیدہ ریاستی خطرات کا سامنا ہے۔ انہوں نے یہ اہم انکشافات حالیہ سکیورٹی بریفنگ کے دوران کیے، جن میں روس، ایران اور نئی ٹیکنالوجیز کو برطانوی سلامتی کے لیے بڑے چیلنجز کے طور پر اجاگر کیا گیا۔ سر کین میک کالم کا کہنا تھا کہ برطانوی ادارے ملکی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے ماضی کے مقابلے میں کہیں زیادہ فعال حکمت عملی پر عمل پیرا ہیں اور ہر ممکن اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
تقریر کے دوران ایم آئی 5 کے سربراہ نے خاص طور پر مصنوعی ذہانت (AI) کے بڑھتے ہوئے منفی استعمال پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے خبردار کیا کہ جدید ترین مصنوعی ذہانت کو دہشت گرد عناصر اور دشمن ریاستیں ہتھیاروں کی تیاری میں استعمال کر سکتی ہیں۔ اے آئی ٹیکنالوجی کی مدد سے نہ صرف خودکار ڈرونز کی تیاری کو مزید آسان بنایا جا سکتا ہے بلکہ یہ خدشہ بھی موجود ہے کہ مستقبل میں اس کی مدد سے خطرناک حیاتیاتی ہتھیار بھی تیار کیے جا سکتے ہیں جو عالمی امن اور انسانیت کے لیے ایک بہت بڑا خطرہ بن سکتے ہیں۔
سر کین میک کالم نے مزید بتایا کہ برطانوی سرزمین پر دشمن ممالک بالخصوص روس اور ایران کی خفیہ کارروائیوں اور تخریب کاری کے عزائم کو ناکام بنانے کے لیے انٹیلی جنس نیٹ ورک کو انتہائی مستحکم کر دیا گیا ہے۔ برطانوی حکام کے مطابق، پچھلے کچھ عرصے میں تند و تیز سفارتی کشیدگی اور سائبر حملوں کی کوششوں میں اضافہ ہوا ہے، جن کا مقصد اہم انفراسٹرکچر کو نشانہ بنانا اور معاشرتی ہم آہنگی کو متاثر کرنا ہے۔
برطانوی حکومت اور سکیورٹی ادارے ان خطرات سے نمٹنے کے لیے بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ مل کر کام کر رہے ہیں۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ ٹیکنالوجی کی تیزی سے بدلتی ہوئی دنیا میں روایتی خطرات کے ساتھ ساتھ ڈیجیٹل اور اے آئی بیسڈ خطرات سے نمٹنا دنیا بھر کی انٹیلی جنس ایجنسیوں کے لیے ایک کڑا امتحان بن چکا ہے، اور برطانیہ اس حوالے سے اپنی دفاعی صلاحیتوں کو مزید اپ گریڈ کرنے پر توجہ دے رہا ہے۔