Politics
خواجہ آصف کا محسن نقوی کے بیان پر ردعمل اور گورننس ری سیٹ پر گفتگو
وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف نے محسن نقوی کی طرف سے گورننس میں تبدیلی کے مطالبے پر واضح ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے تجویز دی ہے کہ اس عمل کی ابتدا خود اپنی وزارت یا پاکستان کرکٹ بورڈ سے کی جانی چاہیے۔
وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف نے وزیر داخلہ محسن نقوی کی جانب سے نظامِ حکومت یا گورننس میں مکمل ری سیٹ کے مطالبے پر سخت اور معنی خیز ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ سیاسی حلقوں میں اس بحث کے بعد گرما گرمی شروع ہو گئی ہے کہ موجودہ انتظامی ڈھانچے میں کس قسم کی اصلاحات کی ضرورت ہے اور اس کی ابتدا کہاں سے ہونی چاہیے۔ خواجہ آصف نے تجویز دی ہے کہ اگر گورننس کو واقعی درست کرنے کی ضرورت ہے تو اس کا آغاز کسی اور کے بجائے محسن نقوی کو خود اپنی وزارت یا پھر پاکستان کرکٹ بورڈ یعنی پی سی بی سے کرنا چاہیے۔
دوسری جانب ملک کی موجودہ سیاسی و اقتصادی صورتحال پر بات کرتے ہوئے وزیر دفاع نے اس تاثر کو مسترد کر دیا کہ موجودہ نظام کسی بڑے بحران کا شکار ہو کر اپنے انجام کو پہنچ رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس وقت ملک میں ایسے کوئی آثار یا شواہد موجود نہیں ہیں جن سے یہ ظاہر ہو سکے کہ یہ نظام اپنے اختتام کے قریب ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ موجودہ سیاسی ڈھانچہ آئینی حدود کے اندر رہتے ہوئے اپنی مدت پوری کرے گا اور ملک کو درپیش چیلنجز سے نمٹنے کے لیے حکومتی سطح پر کوششیں جاری ہیں۔
اس بیان کے بعد سیاسی میدان میں ایک بار پھر گرما گرم بحث چھڑ گئی ہے، جہاں حکومتی اتحاد کے اندرونی امور اور انتظامی کارکردگی پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ وزراء کی سطح پر اس قسم کے عوامی بیانات اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ نظام کے اندر بہتری کے حوالے سے آراء مختلف ہو سکتی ہیں۔ خواجہ آصف کا یہ مشورہ کہ اصلاحات کا آغاز اپنی ہی حدود سے ہونا چاہیے، انتظامی شفافیت کے حوالے سے ایک اہم نکتہ سمجھا جا رہا ہے۔
حکومتی حلقے آنے والے دنوں میں ملکی معیشت، گورننس اور اداروں کی کارکردگی کو مزید بہتر بنانے کے لیے حکمت عملی پر غور کر رہے ہیں۔ وزیر دفاع کے اس بیان سے یہ بھی واضح ہوتا ہے کہ وفاقی کابینہ میں انتظامی معاملات پر کھلے عام گفتگو کی گنجائش موجود ہے، اور مختلف امور پر سیاسی رہنماؤں کی اپنی اپنی ترجیحات ہیں۔ عوامی سطح پر بھی اس بحث پر ملا جلا ردعمل سامنے آ رہا ہے جہاں عام شہری ملک میں بہتر گورننس اور اداروں کی کارکردگی میں بہتری کے خواہاں ہیں۔