Technology
یوکرین کے روسی ڈیٹا سینٹرز پر حملے اور روسی بوٹس کی حقیقت
یوکرین کے صدر زیلنسکی کے حالیہ دعوے کے برعکس ماہرین کا کہنا ہے کہ روسی ٹرول نیٹ ورکس پر حملوں کے کوئی شواہد نہیں ملے۔ ڈیجیٹل سکیورٹی کے ماہرین اس بات کی تحقیق کر رہے ہیں کہ آیا ان حملوں سے روسی پروپیگنڈا مشینری کو کوئی نقصان پہنچا ہے۔
یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی کے حالیہ بیانات کے بعد عالمی سطح پر یہ بحث شروع ہو گئی ہے کہ آیا یوکرین کی جانب سے روسی ڈیٹا سینٹرز پر کیے جانے والے حملوں نے واقعی روسی بوٹس اور ٹرول نیٹ ورکس کو معطل کر دیا ہے۔ یوکرینی حکومتی حلقوں کی جانب سے یہ تاثر دینے کی کوشش کی گئی ہے کہ ان کے ڈیجیٹل وارفیئر اور یانڈیکس (Yandex) جیسے اداروں پر حملوں سے روس کی پروپیگنڈا مشینری کو کاری ضرب پہنچی ہے اور سوشل میڈیا پر روسی اثر و رسوخ میں کمی واقع ہوئی ہے۔ تاہم ڈیجیٹل سکیورٹی اور سائبر وارفیئر کے بین الاقوامی ماہرین نے اس دعوے پر گہرے تحفظات کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ اس بات کا کوئی ٹھوس ثبوت موجود نہیں ہے۔
آزادانہ تجزیہ کاروں اور انٹرنیٹ ٹریفک پر نظر رکھنے والی تنظیموں کا کہنا ہے کہ اگرچہ یوکرین نے روس کے انفراسٹرکچر کو نشانہ بنانے میں اہم کامیابیاں حاصل کی ہیں، لیکن روسی بوٹس اور خودکار سوشل میڈیا اکاؤنٹس کی سرگرمیوں میں کوئی نمایاں کمی دیکھنے میں نہیں آئی۔ ماہرین کے مطابق روسی پروپیگنڈا نیٹ ورک انتہائی وسیع، غیر مرکوز اور لچکدار ہے جو دنیا کے مختلف حصوں میں بکھرے ہوئے سرورز اور کلاؤڈ سروسز کے ذریعے چلایا جاتا ہے۔ کسی ایک یا چند مخصوص ڈیٹا سینٹرز کو نشانہ بنانے سے اس پورے ڈیجیٹل نیٹ ورک کو جڑ سے ختم کرنا تکنیکی طور پر انتہائی مشکل بلکہ ناممکن ہے۔
اس صورتحال نے سائبر جنگ کی حقیقت اور اس کے اثرات کے حوالے سے اہم سوالات کو جنم دیا ہے۔ جہاں ایک طرف یوکرین اور اس کے اتحادی اس قسم کے ڈیجیٹل آپریشنز کو جنگی حکمت عملی کے تحت ایک بڑی کامیابی قرار دے رہے ہیں، وہیں دوسری طرف تکنیکی ماہرین کا اصرار ہے کہ پروپیگنڈا کے خلاف جنگ صرف فزیکل یا ڈیجیٹل انفراسٹرکچر پر بمباری یا ہیکنگ سے نہیں جیتی جا سکتی۔ روس کی جانب سے بھی اس معاملے پر تاحال کوئی باضابطہ بیان سامنے نہیں آیا ہے، لیکن زمینی حقائق یہی ظاہر کرتے ہیں کہ روسی بوٹس کی سوشل میڈیا پر موجودگی بدستور برقرار ہے اور ان کی سرگرمیوں میں کوئی بڑی تعطل ریکارڈ نہیں کی گئی۔