Sports
مانچسٹر سٹی کی ضابطہ شکنی اور پریمیئر لیگ کلبوں پر اثرات
مانچسٹر سٹی کی جانب سے مالیاتی ضوابط کی مبینہ خلاف ورزیوں نے پریمیئر لیگ کے دیگر کلبوں کو گہرے پیمانے پر متاثر کیا ہے۔ اس صورتحال کی وجہ سے بعض ٹیموں کو چیمپئنز لیگ کی اہلیت اور انعامی رقم سے محروم ہونا پڑا ہے۔
انگلش پریمیئر لیگ کے دفاعی چیمپئن مانچسٹر سٹی کی جانب سے مالیاتی قوانین کی مبینہ خلاف ورزیوں کا معاملہ فٹ بال کی دنیا میں ایک طویل عرصے سے بحث کا موضوع بنا ہوا ہے۔ ماہرین اور تجزیہ کاروں کے مطابق اس مبینہ ضابطہ شکنی کا اثر صرف مانچسٹر سٹی تک محدود نہیں ہے بلکہ اس نے پوری لیگ کے توازن اور دیگر کلبوں کی کامیابیوں کو براہ راست متاثر کیا ہے۔ اس صورتحال کے تناظر میں یہ سوال شدت سے اٹھایا جا رہا ہے کہ اس قانون شکنی نے دراصل دوسرے کلبوں کو کس حد تک نقصان پہنچایا ہے۔ رپورٹس کے مطابق اس کے اثرات بہت گہرے اور وسیع ہیں جن میں یورپ کے سب سے بڑے کلب مقابلے یعنی چیمپئنز لیگ کی اہلیت سے محرومی سرفہرست ہے۔ کئی ایسی ٹیمیں جو پوائنٹس کی دوڑ میں مانچسٹر سٹی کے قریب تھیں، وہ ان قواعد کی مبینہ خلاف ورزیوں کے باعث ٹاپ فور میں جگہ بنانے سے محروم رہ گئیں۔ چیمپئنز لیگ میں شرکت نہ کرنے کا مطلب متعلقہ کلبوں کو کروڑوں روپے کی آمدنی، ٹی وی حقوق اور عالمی سطح پر ملنے والی شہرت سے ہاتھ دھونا پڑتا ہے۔ اس کے علاوہ پریمیئر لیگ کی انعامی رقم کی تقسیم بھی اس سے متاثر ہوئی ہے، جس سے چھوٹے اور درمیانے درجے کے کلبوں کے مالیاتی ڈھگز کو شدید دھچکا لگا ہے۔ بعض صورتوں میں تو ریلگیشن یعنی درجۂ تنزلی کا خطرہ بھی ان ٹیموں کے سر پر منڈلاتا رہا جو مالیاتی دباؤ اور غیر منصفانہ مقابلے کی فضا کی وجہ سے مطلوبہ کارکردگی نہ دکھا سکیں۔ فٹ بال شائقین اور ماہرین کا ماننا ہے کہ اس پورے تنازعے نے پریمیئر لیگ کی شفافیت پر سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔ کلبوں کے مالکان اور انتظامیہ اس بات کا مطالبہ کر رہے ہیں کہ اگر مانچسٹر سٹی قصوروار ثابت ہوتا ہے تو متاثرہ ٹیموں کو انصاف فراہم کیا جانا چاہیے اور ماضی کے فیصلوں پر نظرثانی کی جانی چاہیے۔ اس معاملے کی حتمی تحقیقات اور فیصلے کے بعد ہی یہ واضح ہو سکے گا کہ کس کلب کو کتنا مالی یا اعزازی ازالہ ملتا ہے، لیکن فی الحال یہ صورتحال انگریزی فٹ بال کی تاریخ کے سب سے بڑے اسکینڈلز میں سے ایک سمجھی جا رہی ہے۔