Entertainment
گلوکارہ رے کا ٹکٹ مافیا کے خلاف سخت بیان
نامور برطانوی گلوکارہ رے نے رائل البرٹ ہال میں ہونے والے اپنے کنسرٹ کے ٹکٹوں کی بلیک مارکیٹنگ کرنے والوں کو کڑے ہاتھوں لیا ہے۔ ان کے شو کے لیے اٹھارہ لاکھ افراد نے رجسٹریشن کروائی تھی جبکہ ہال کی گنجائش صرف پانچ ہزار نشستوں پر مشتمل ہے۔
برطانوی موسیقی کی دنیا میں اپنے فن کا لوہا منوانے والی معروف ایوارڈ یافتہ گلوکارہ رے نے رائل البرٹ ہال میں ہونے والے اپنے متوقع کنسرٹ کے ٹکٹوں کی آن لائن بلیک مارکیٹنگ کرنے والوں کے خلاف سخت مؤقف اختیار کیا ہے۔ گلوکارہ کا کہنا ہے کہ ان کے اس انتہائی محدود اور خصوصی شو کے لیے لوگوں کی جانب سے غیر معمولی دلچسپی کا مظاہرہ کیا گیا اور محض چند دنوں میں اٹھارہ لاکھ سے زائد افراد نے ٹکٹ حاصل کرنے کے لیے سائن اپ کیا۔ لیکن دوسری طرف اتنی بڑی تعداد میں مداحوں کی آمد کے باعث ٹکٹ مافیا اور بلیک مارکیٹرز بھی فعال ہو گئے۔
رائل البرٹ ہال دنیا کے معروف ترین ثقافتی اور تفریحی مقامات میں شمار ہوتا ہے جہاں بیٹھنے کی گنجائش صرف پانچ ہزار افراد پر مشتمل ہے۔ اتنی بڑی تعداد میں مداحوں کی رجسٹریشن اور ہال کی محدود گنجائش کے باعث ٹکٹوں کے حصول کے لیے زبردست رسہ کشی دیکھنے میں آئی۔ گلوکارہ رے نے اس صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ انتہائی افسوسناک ہے کہ اصل مداحوں کو ٹکٹ ملنے میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا جبکہ کچھ عناصر نے اس صورتحال کا ناجائز فائدہ اٹھانے کی کوشش کی۔
ٹکٹ مافیا اور غیر قانونی فروخت کرنے والوں نے اس بھاری ڈیمانڈ کا فائدہ اٹھاتے ہوئے عام ٹکٹوں کو کئی گنا زیادہ قیمتوں پر فروخت کرنے کی کوشش کی جس سے سچے مداحوں کو شدید مایوسی کا سامنا کرنا پڑا۔ گلوکارہ نے اس بات پر بھی زور دیا کہ فنکاروں اور منتظمین کو مل کر ایسے سخت اقدامات کرنے چاہئیں تاکہ عام شائقین اور مداحوں کا استحصال روکا جا سکے اور وہ مناسب داموں اپنے پسندیدہ فنکاروں کی پرفارمنس براہ راست دیکھ سکیں۔
موسیقی کے حلقوں میں اس واقعے کے بعد ٹکٹوں کی آن لائن فروخت کے نظام میں شفافیت لانے کے حوالے سے ایک بار پھر بحث شروع ہو گئی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ڈیجیٹل دور میں جہاں ٹیکنالوجی نے سہولیات فراہم کی ہیں، وہیں بوٹس اور غیر قانونی طریقوں سے ٹکٹ حاصل کرنے والے مافیا نے اصل مداحوں کے حقوق کو پامال کرنا شروع کر دیا ہے۔ گلوکارہ رے کی جانب سے اس آواز اٹھائے جانے کے بعد اب دیگر فنکار بھی اس مسئلے پر کھل کر بات کرنے لگے ہیں۔