World
بحرِ اسود میں ڈرون حملہ، بلغاریہ کا روسی سفیر کو طلب کرنے کا فیصلہ
بحرِ اسود میں ہونے والے ایک ڈرون حملے کے نتیجے میں مال بردار جہاز ڈوب گیا جس کے بعد بلغاریہ نے روس کے سفیر کو طلب کر لیا ہے۔ اس حادثے میں عملے کے چھ ارکان کو بچا لیا گیا ہے جبکہ دس افراد تاحال لاپتہ ہیں۔
بلغاریہ کے حکام نے تصدیق کی ہے کہ بحرِ اسود میں پیش آنے والے ایک ڈرون حملے کے دوران ایک تجارتی مال بردار جہاز مکمل طور پر تباہ ہو کر ڈوب گیا ہے۔ اس اچانک اور خطرناک سمندری واقعے کے فورا بعد بلغاریہ کی حکومت نے سخت سفارتی ردعمل ظاہر کرتے ہوئے روسی سفیر کو وزارتِ خارجہ طلب کر لیا ہے تاکہ اس صورتحال پر بازپرس کی جا سکے۔ حکام کے مطابق اس خوفناک واقعے کے بعد بین الاقوامی سطح پر تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے اور خطے میں سکیورٹی خدات میں مزید اضافہ ہو گیا ہے۔
ابتدائی اطلاعات کے مطابق حادثے کا شکار ہونے والے جہاز پر عملے کے کل سولہ افراد سوار تھے۔ ریسکیو آپریشن کے دوران بروقت کارروائی کرتے ہوئے عملے کے چھ ارکان کو بحفاظت بچا لیا گیا ہے جنہیں طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ تاہم، اس دلخراش واقعے کے بعد عملے کے دیگر دس افراد تاحال لاپتہ ہیں جن کی تلاش کے لیے بڑے پیمانے پر سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن جاری ہے۔ امدادی ٹیمیں مشکل موسمی حالات کے باوجود لاپتہ افراد کی بازیابی کے لیے اپنی تمام تر صلاحیتیں بروئے کار لا رہی ہیں۔
اس واقعے کے بعد بحرِ اسود میں تجارتی جہاز رانی کے حوالے سے سکیورٹی کے خطرات میں نمایاں اضافہ ہو چکا ہے۔ بین الاقوامی برادری اور بحری امور کے ماہرین نے اس حملے پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے کیونکہ اس سے سپلائی چین اور سمندری تجارت بری طرح متاثر ہو رہی ہے۔ توقع کی جا رہی ہے کہ بلغاریہ اور دیگر علاقائی ممالک اس واقعے کے بعد سفارتی اور دفاعی سطح پر مزید سخت لائحہ عمل تیار کریں گے تاکہ مستقبل میں اس قسم کے ناخوشگوار واقعات کی روک تھام کی جا سکے۔