LIVE
Loading Breaking News...

پاکستان اور سعودی عرب تعلقات، یمن جنگ اور عسکری کردار پر تجزیہ

News Image
پاکستان کے عسکری حلقوں کی جانب سے خلیجی ممالک اور سعودی عرب کے ساتھ بڑھتے ہوئے تعاون نے ایک بار پھر پارلیمنٹ کی روش اور خارجہ پالیسی پر اہم سوالات اٹھا دیے ہیں۔ حکام نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ مملکتِ خداداد کے تمام وسائل خلیجی امن اور مقدس مقامات کے دفاع کے لیے تیار ہیں۔
اسلام آباد: پاکستان کی خارجہ اور عسکری پالیسی میں خلیجی خطے کی اہمیت کے پیش نظر سعودی عرب کی یمن میں جاری جنگ اور خطے کے مجموعی حالات پر ایک بار پھر بحث کا آغاز ہو چکا ہے۔ بین الاقوامی میڈیا رپورٹس اور مالیاتی اخبارات کے مطابق، پاکستانی عسکری قیادت کی جانب سے خلیجی ممالک میں کردار ادا کرنے کے دوران پارلیمنٹ کی براہِ راست شمولیت نہ ہونے پر مختلف حلقوں کی طرف سے تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ اس قسم کے حساس امور پر پارلیمانی بحث اور منظوری ملکی جمہوریت اور آئینی روایات کے لیے انتہائی ضروری ہے۔ دوسری جانب، پاکستان کے اعلیٰ ترین عسکری اور سیاسی حلقوں نے خلیجی ممالک بالخصوص سعودی عرب کے ساتھ دیرینہ اور برادرانہ تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کا عندیہ دیا ہے۔ حالیہ ملاقاتوں کے دوران صدرِ مملکت اور دیگر حکومتی شخصیات نے مکہ معاہدے کے تحت خطے میں پائیدار امن کے قیام کے لیے اپنی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کیا ہے۔ پاکستان کی طرف سے واضح کیا گیا ہے کہ حرمین شریفین کے تقدس اور دفاع کے لیے مملکت کے تمام وسائل کو بروئے کار لایا جائے گا اور سعودی عرب کی سلامتی پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ ماہرینِ امورِ خارجہ کا ماننا ہے کہ پاکستان کے لیے خلیجی ممالک کے ساتھ تعلقات کو متوازن رکھنا ہمیشہ سے ایک کٹھن مرحلہ رہا ہے۔ ایک طرف جہاں معاشی چیلنجز اور سعودی عرب کے ساتھ تجارتی و مالیاتی وابستگی ہے، وہیں دوسری طرف مشرقِ وسطیٰ کے اندرونی تنازعات میں غیر جانبدار رہنے یا پارلیمانی مشاورت کے ساتھ آگے بڑھنے کے مطالبات بھی موجود ہیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ ماضی میں بھی جب پارلیمنٹ نے یمن تنازع پر متفقہ قرارداد کے ذریعے غیر جانبدار رہنے کا فیصلہ کیا تھا، تو اس سے ریاستی سطح پر ایک متوازن پالیسی کا تاثر ابھرا تھا۔ حالیہ پیش رفت کے بعد اب یہ دیکھنا باقی ہے کہ آیا حکومت اور عسکری قیادت اس معاملے کو پارلیمنٹ کے ایوانوں میں زیرِ بحث لاتی ہے یا نہیں۔ عوام اور اپارٹمنٹ کے مبصرین اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ ملکی خارجہ پالیسی کو طویل المدتی بنیادوں پر استوار کیا جائے تاکہ خطے کے بدلتے ہوئے جیو پولیٹیکل حالات میں پاکستان کے قومی مفادات کا بھرپور تحفظ ممکن ہو سکے اور کسی بھی اندرونی یا بیرونی بحران سے بخوبی نبرد آزما ہوا جا سکے۔