World
یمنی حکومت کے حوثی پوزیشنز پر فضائی حملے اور آپریشن فجر یمن
یمنی سرکاری افواج نے تعز اور باب المندب کے قریب حوثی پوزیشنز پر شدید فضائی حملے کیے ہیں۔ حکام کا دعویٰ ہے کہ حالیہ کارروائیوں میں بارہ سو کے قریب حوثی جنگجوؤں کو ناکارہ بنایا گیا ہے۔
یمنی حکومت کی وفادار افواج نے ملک کے مختلف حصوں میں حوثی موومنٹ کے خلاف اپنی عسکری کارروائیوں کو نمایاں طور پر تیز کرتے ہوئے فضائی حملے شروع کر دیے ہیں۔ موصولہ اطلاعات کے مطابق، یہ کارروائیاں خاص طور پر تعز کے علاقے اور اہم بحری گزرگاہ باب المندب کے اطراف میں مرکوز ہیں، جہاں دونوں فریقین کے درمیان کشیدگی میں خطرناک حد تک اضافہ دیکھا گیا ہے۔ یمنی فوج کی جانب سے جاری کردہ بیانات میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ حالیہ دنوں میں شروع کیے جانے والے عسکری آپریشن 'فجرِ یمن' کے دوران زمینی اور فضائی کارروائیوں کے نتیجے میں تقریباً بارہ سو حوثی جنگجوؤں کو ناکارہ بنایا جا چکا ہے۔ اس وسیع تر جارحانہ حکمت عملی کا مقصد حوثی فورسز پر دباؤ بڑھانا اور اہم سന്ത്രاتی مقامات کا کنٹرول دوبارہ حاصل کرنا ہے۔ یمنی عسکری حکام کا کہنا ہے کہ یہ آپریشن ملک میں امن و امان کی بحالی اور قانونی حکومت کی رٹ قائم کرنے کی کوششوں کا ایک لازمی حصہ ہے۔ دوسری جانب، اس تازہ ترین عسکری escalation کے بعد علاقے میں انسانی صورتحال اور سکیورٹی کے حوالے سے خدشات میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔ تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ اگر یہ زمینی اور فضائی حملے اسی شدت کے ساتھ جاری رہے تو یمن کے تنازع میں ایک نیا موڑ آ سکتا ہے، جس کے خطے کے امن پر گہرے اثرات مرتب ہوں گے۔ عالمی برادری بھی یمن کی اس صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے اور فریقین سے تحمل کا مظہر کرنے کی اپیل کی جا رہی ہے تاکہ عام شہریوں کو مزید جانی و مالی نقصان سے بچایا جا سکے، تاہم فی الحال دونوں طرف سے لڑائی میں کمی کے کوئی آثار نظر نہیں آرہے ہیں۔