LIVE
Loading Breaking News...

ٹرمپ کا حوثیوں پر مڈٹرم انتخابات سے قبل تیل مہنگا کرنے کا الزام

News Image
سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے الزام عائد کیا ہے کہ یمن کے حوثی باغی امریکی مڈٹرم انتخابات سے پہلے تیل کی قیمتوں میں مصنوعی اضافہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ انہوں نے خطے میں جاری کشیدگی اور سعودی عرب پر حملوں کے تناظر میں سخت ردعمل کا اظہار کیا ہے۔
سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر یمن کے حوثی باغیوں کو کڑی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے الزام لگایا ہے کہ وہ امریکی مڈٹرم انتخابات سے قبل عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں کو جان بوجھ کر اوپر لے جانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ٹرمپ کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے میں کشیدگی عروج پر ہے اور حوثی فورسز کی جانب سے اہم تنصیبات کو نشانہ بنانے کے بعد سعودی عرب اور اتحادی ممالک کے ساتھ تنازع مزید شدت اختیار کر گیا ہے۔ مبصرین کے مطابق توانائی کی قیمتیں امریکی سیاست میں ہمیشہ ایک حساس موضوع رہی ہیں اور انتخابات سے قبل ان میں اتار چڑھاؤ ووٹرز کے فیصلوں پر اثر انداز ہو سکتا ہے۔ رپورٹس کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی ولی عہد سے ٹیلیفونک رابطے کے بعد حوثی حملوں کی شدید مذمت کی ہے اور امکان ظاہر کیا ہے کہ وہ اس تنازع کو حل کرنے کے لیے ترک صدر رجب طیب اردگان سے بھی یمن تنازع میں مداخلت کی درخواست کر سکتے ہیں۔ دوسری جانب حوثی باغیوں نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکہ نے سعودی عرب کے ساتھ مل کر ان کے خلاف کسی بھی قسم کی کارروائی میں حصہ لیا تو وہ اسے ایک خطرناک اور تکلیف دہ جواب دیں گے۔ اس صورتحال نے بین الاقوامی سطح پر توانائی کے ذخائر اور سمندری گزرگاہوں کی سیکیورٹی کے حوالے سے خدشات کو مزید بڑھا دیا ہے۔ ٹرمپ نے اپنے ایک بیان میں یہ بھی کہا ہے کہ ایران کے حوالے سے ایک بڑا فیصلہ بہت جلد سامنے آنے والا ہے اور اس وقت حوثی باغی خطے میں بلاجواز جارحیت کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔ امریکی حکام اور اتحادی ممالک اس بات پر غور کر رہے ہیں کہ تیل کی سپلائی لائنوں کو محفوظ کیسے بنایا جائے تاکہ عالمی معیشت کو کسی بڑے بحران سے بچایا جا سکے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یمن میں جاری خانہ جنگی اب محض ایک علاقائی تنازع نہیں رہی بلکہ اس کے اثرات عالمی سیاست اور معیشت پر گہرے نقوش چھوڑ رہے ہیں۔