World
کارنیل یونیورسٹی کا بڑا فیصلہ، جنسی زیادتی کے الزامات پر فرٹرنٹی پارٹیاں بند
امریکی ریاست نیویارک کی مشہور کارنیل یونیورسٹی نے جنسی زیادتی کے سنگین الزامات سامنے آنے کے بعد کیمپس کی تمام فرٹرنٹی پارٹیوں پر پابندی لگا دی ہے۔ یونیورسٹی انتظامیہ کو اس معاملے سے نمٹنے کے طریقے پر طلباء اور عوام کی جانب سے شدید ردعمل اور احتجاج کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
امریکی ریاست نیویارک میں واقع معروف کارنیل یونیورسٹی نے کیمپس میں جنسی زیادتی کے سنگین الزامات سامنے آنے کے بعد تمام فرٹرنٹی پارٹیوں پر پابندی عائد کر دی ہے۔ اس فیصلے کا مقصد طلبا کی حفاظت کو یقینی بنانا اور یونیورسٹی کے اندر بڑھتے ہوئے حفاظتی خدشات کا سدباب کرنا ہے۔ ذرائع کے مطابق یہ قدم اس وقت اٹھایا گیا جب ادارے کو ایک متاثرہ خاتون کی جانب سے درج کرائے گئے جنسی زیادتی کے الزامات اور ان سے نمٹنے کے انتظامی طریقہ کار پر شدید عوامی احتجاج کا سامنا کرنا پڑا۔ متاثرہ خاتون کو قانونی دستاویزات میں 'جین ڈو' کے نام سے ظاہر کیا گیا ہے۔ اس مقدمے اور یونیورسٹی کے ردعمل نے طلبا اور اساتذہ کے درمیان ایک طوفان برپا کر رکھا ہے، جس کے بعد انتظامیہ پر سخت دباؤ تھا۔ یونیورسٹی حکام کا کہنا ہے کہ اس قسم کے واقعات کو کسی بھی صورت میں برداشت نہیں کیا جائے گا اور کیمپس کے تمام طلبا کے لیے ایک محفوظ ماحول کی فراہمی ان کی اولین ترجیح ہے۔ اس پابندی کے نفاذ سے یونیورسٹی کے سماجی اور ثقافتی ماحول پر گہرے اثرات مرتب ہونے کا اندیشہ ظاہر کیا جا رہا ہے، تاہم بیشتر حلقوں نے اس اقدام کو بروقت اور ضروری قرار دیا ہے۔ دوسری جانب، متاثرہ فریق کے حامی طلبا نے انتظامیہ سے مزید سخت اقدامات اور شفاف تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے تاکہ اس طرح کے گھناؤنے واقعات کی دوبارہ روک تھام کی جا سکے۔ یونیورسٹی کی انتظامیہ نے یقین دہانی کرائی ہے کہ معاملے کی مکمل اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کی جائیں گی اور ضابطے کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت قانونی و انتظامی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔