LIVE
Loading Breaking News...

پيرس طلبہ احتجاج: فرانسیسی طلبہ کا مطالبات کی منظوری تک تحریک جاری رکھنے کا اعلان

News Image
فرانس میں طلبہ کے احتجاجی مظاہرے اپنے چوتھے ہفتے میں داخل ہو چکے ہیں اور طلبہ کا عزم ہے کہ مطالبات پورے ہونے تک تحریک جاری رہے گی۔ برطانوی نشریاتی ادارے سے بات کرتے ہوئے طلبہ نے واضح کیا کہ حکام کی توجہ مبذول کرانے کے لیے احتجاج ناگزیر ہے۔
فرانس کے دارالحکومت پیرس سمیت ملک کے مختلف حصوں میں طلبہ کی جانب سے شروع کیے جانے والے احتجاجی مظاہرے اب اپنے چوتھے ہفتے میں باضابطہ طور پر داخل ہو چکے ہیں۔ اس دوران طلبہ کے جوش و خروش میں کوئی کمی دیکھنے میں نہیں آئی ہے اور وہ اپنے مطالبات کے حق میں سڑکوں پر موجود ہیں۔ برطانوی نشریاتی ادارے کے نمائندے سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے فرانسیسی طلبہ نے دوٹوک انداز میں کہا ہے کہ وہ اس وقت تک اپنی تحریک اور کارروائیوں کا سلسلہ جاری رکھیں گے جب تک ملک کے نظام میں ان کے مطالبات کے مطابق حقیقی اور مثبت تبدیلیاں نہیں لائی جاتیں۔ طلبہ کا یہ بھی ماننا ہے کہ اگر وہ اب خاموش رہے تو ان کے مسائل پر کوئی بھی توجہ نہیں دے گا۔ گزشتہ چار ہفتوں سے جاری ان مظاہروں نے ملکی سیاسی و سماجی حلقوں میں ہلچل مچا دی ہے۔ احتجاج میں شامل نوجوانوں اور طلبہ کا موقف ہے کہ حکومتی سطح پر ان کے دیرینہ مسائل کو نظر انداز کیا جا رہا ہے، جس کی وجہ سے وہ مجبورا سڑکوں پر نکلنے پر مجبور ہوئے۔ طلبہ کا کہنا ہے کہ پرامن احتجاج اور نعرے بازی ان کا جمہوری حق ہے اور جب تک انتظامیہ ان کی آواز کو سنجیدگی سے نہیں سنتی، وہ پیچھے ہٹنے کا ارادہ نہیں رکھتے۔ اس تحریک کی گونج اب پورے فرانس میں سنائی دے رہی ہے اور تعلیمی اداروں کے علاوہ عوامی مقامات پر بھی اس کے اثرات واضح طور پر محسوس کیے جا رہے ہیں۔ دوسری جانب، انتظامیہ اور سکیورٹی اداروں کی جانب سے صورتحال پر گہری نظر رکھی جا رہی ہے تاکہ امن و امان کی صورتحال برقرار رہے اور ٹریڈ یونینز یا دیگر طبقات کی حمایت سے اس احتجاج کے دائرہ کار کو مزید پھیلنے سے روکا جا سکے۔ تاہم، طلبہ رہنماؤں کا عزم ہے کہ وہ دباؤ کے باوجود اپنے مؤقف سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ اگر حکومت نے اس معاملے پر فوری طور پر طلبہ کے ساتھ مذاکرات کا آغاز نہ کیا تو یہ احتجاجی لہر ملک کے دوسرے شعبوں تک بھی پھیل سکتی ہے، جس سے حکومت کی مشکلات میں مزید اضافہ ہو گا۔